خاموش سوال
رات کے دس بجے اسٹوڈیو کے کونے میں صرف ایک بلب جل رہا تھا۔ ریڈیو کی سرخ بتی "آن ایئر" کی علامت کے ساتھ ہلکی ہلکی جھلک دے رہی تھی۔ اینکر زریاب نے گہری سانس لی، مائیک کے سامنے بیٹھا اور بولا، "سامعین، آج کے پروگرام میں ہم ایک ایسے شخص سے بات کریں گے جو برسوں پہلے اس شہر کا سب سے مشہور نام تھا — مگر پھر اچانک غائب ہوگیا۔" اس کے سامنے والی کرسی خالی تھی، مگر زریاب کے چہرے پر یقین تھا جیسے کوئی واقعی بیٹھا ہو۔ "آپ کو یاد ہے آپ نے پہلی بار ریڈیو پر کیا کہا تھا؟" اس نے مائیک تھوڑا سا آگے کیا۔ چند لمحے خاموشی رہی، پھر اسپیکر سے ہلکی سی آہٹ آئی۔ ایک بوڑھی سی آواز — دھیمی مگر صاف — بولی: "میں نے کہا تھا، آواز کبھی مرتی نہیں۔" زریاب کا دل ایک لمحے کو رک سا گیا۔ پس منظر میں ریڈیو کی ہلکی گڑگڑاہٹ جیسے کسی کی سانس بن گئی۔ "آپ تو پندرہ سال پہلے گم ہو گئے تھے... کہاں رہے اتنے سال؟" جواب آیا، "وقت کے پیچھے، اپنی باتوں کے نیچے۔ لوگ سنتے رہے، میں چھپتا رہا۔" زریاب نے پسینہ پونچھا۔ اس کے ذہن میں وہ چہرہ گردش کر رہا تھا — وہی شخص جس کے ساتھ کبھی اس نے ریڈیو پر پہلی بار بات کی تھی، اس کے استاد، اس کے رہنما، اس کے باپ۔ "کیا آپ مجھے معاف کر سکتے ہیں؟" زریاب کی آواز بھرا گئی۔ دوسری طرف طویل خاموشی رہی، پھر دھیرے سے آواز آئی: "بیٹا، آوازیں معاف نہیں کرتیں... وہ بس گونج بن جاتی ہیں۔" ریڈیو بند ہوگیا۔ بلب بجھ گیا۔ زریاب کے سامنے کرسی خالی تھی — مگر مائیک سے اب بھی وہی گونج آرہی تھی: "آواز کبھی مرتی نہیں۔"
مفہوم / عکاسی: یہ کہانی اس احساس کی ہے کہ کچھ سوال وقت کے ساتھ پرانے نہیں ہوتے — وہ صرف گونج بن کر ہمارے اندر زندہ رہتے ہیں۔ خاموشی بھی کبھی کبھی سب سے سچا جواب ہوتی ہے۔
— اختتام —