← تمام اردو کہانیاں

خوابوں کا قیدی

ایک نیم روشن کمرہ، کھڑکی سے آتی چاندنی،
اور ایک شخص جو آئینے میں خود کو پہچاننے کی کوشش کر رہا ہے۔

رات کے آخری پہر، **شہیر** اپنی میز پر بیٹھا تھا۔ سامنے ایک خالی کاغذ، اور ہاتھ میں قلم۔ وہ برسوں سے ایک ہی خواب دیکھ رہا تھا — کہ وہ کسی اور دنیا میں قید ہے، جہاں وقت ٹھہر جاتا ہے، اور آوازیں گم ہو جاتی ہیں۔

وہ خواب ہر رات آتا۔ وہ ایک سنسان شہر میں چلتا، جہاں ہر دروازہ بند، ہر دیوار خاموش۔ کوئی نہیں بولتا، کوئی نہیں سنتا۔ صرف وہ، اور اس کے قدموں کی آواز۔

ایک رات اس نے خواب میں خود کو آئینے کے سامنے دیکھا۔ آئینے میں کھڑا شخص وہی تھا — مگر چہرہ اجنبی۔ اس نے پوچھا، "تم کون ہو؟" جواب آیا، "میں وہ ہوں جو تمہارا ہونا چاہتا تھا، مگر تم نے بننے نہیں دیا۔"

شہیر چونک کر جاگ گیا۔ دل تیزی سے دھڑک رہا تھا، اور کھڑکی کے پار چاندنی جیسے سب کچھ بیان کر رہی تھی۔ اس نے سوچا — کیا خواب صرف نیند میں آتے ہیں؟ یا ہم جاگتے ہوئے بھی خواب جیتے ہیں؟

دن گزرتے گئے، اور وہ آہستہ آہستہ خواب اور حقیقت میں فرق کھونے لگا۔ وہ باتیں جو کبھی کہانیاں تھیں، اب اس کے اردگرد کی دیواروں پر لکھی نظر آتی تھیں۔

ایک دن وہ آئینے کے سامنے دوبارہ کھڑا ہوا۔ اس بار وہ شخص مسکرا رہا تھا۔ آواز آئی، "آخر تم نے خود کو دیکھ لیا — اب تم آزاد ہو۔"

شہیر نے آئینے کو چھوا، اور اگلے لمحے وہ خود اپنی تصویر میں غائب ہو گیا۔ کمرہ خالی تھا۔ صرف میز پر ایک نوٹ پڑا تھا: "میں اپنے خواب سے جاگ گیا ہوں، اور اب وہ خواب میری حقیقت ہے۔"

مفہوم / عکاسی:
“خوابوں کا قیدی” انسان کے اندر کے اس سفر کی کہانی ہے جہاں خواب، حقیقت اور احساس ایک دوسرے میں گم ہو جاتے ہیں۔ کبھی ہم دنیا میں قید نہیں ہوتے — بلکہ اپنے خیالات، خوف اور خوابوں میں۔ آزادی تب ملتی ہے جب انسان خود کو پہچان لیتا ہے۔ 🌙

— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →