بند مٹھی
فراز کی مٹھی ہمیشہ بند رہتی تھی۔
پیسے پر، وقت پر، اور جذبات پر بھی۔
وہ مانتا تھا کہ دنیا لینے والوں کی ہے، دینے والے پیچھے رہ جاتے ہیں۔
چھوٹی سی دکان سے اس نے بڑا کاروبار بنایا۔ حساب کتاب میں سخت، اور اصولوں میں بے لچک۔
لوگ کہتے: “فراز دل کا اچھا نہیں، بس حساب کا پکا ہے۔”
اور فراز اس بات پر فخر کرتا تھا۔
ایک دن دکان پر ایک بوڑھی عورت آئی۔ ہاتھ میں پرچی، آنکھوں میں جھجک۔
اس نے کہا: “بیٹا، دوا چاہیے… پیسے پورے نہیں ہیں۔”
فراز نے رقم دیکھی، اور سر ہلا دیا۔ “معاف کریں، نقصان نہیں کر سکتا۔”
بوڑھی عورت خاموشی سے لوٹ گئی۔
اسی رات فراز کے ہاتھ میں شدید درد اٹھا۔ مٹھی بند کرنا آسان تھا— کھولنا مشکل۔
ڈاکٹر نے کہا: “زیادہ دباؤ ہے، ہاتھ کو آرام دیں۔”
مگر درد صرف ہاتھ میں نہیں تھا۔
اگلے دن وہ دکان پر بیٹھا اسی عورت کو یاد کرتا رہا۔ اس کی خاموشی کسی شور سے کم نہ تھی۔
شام کو فراز نے پہلی بار اپنی مٹھی کھولی— اور کچھ رقم ایک لفافے میں رکھی۔
اس نے بوڑھی عورت کو ڈھونڈا، اور خاموشی سے لفافہ اس کے ہاتھ میں دے دیا۔
عورت کی آنکھوں میں آنکھیں ملاتے ہوئے فراز نے کہا: “معاف کیجیے… دیر ہو گئی۔”
عورت نے دعا دی— بغیر کسی شکوے کے۔
اُسی لمحے فراز نے محسوس کیا کہ درد کم ہو گیا ہے۔
وقت کے ساتھ وہ بدلنے لگا۔ ہر چیز کا حساب اب بھی رکھتا تھا، مگر دل کا نہیں۔
لوگوں نے کہنا شروع کیا: “فراز اب پہلے جیسا نہیں رہا۔”
اور فراز مسکرا دیتا۔
وہ جان چکا تھا کہ بند مٹھی چیزیں تو بچا لیتی ہے، مگر سکون چھین لیتی ہے۔
کھلا ہاتھ شاید کم رکھتا ہو— مگر دل بھر دیتا ہے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- لالچ تحفظ نہیں، قید ہے
- دینے سے کمی نہیں، وسعت آتی ہے
- دل کا سکون حساب سے نہیں ملتا
- ہاتھ کھولنا اصل میں دل کھولنا ہوتا ہے
— اختتام —