صبر کا دروازہ
ارشد کی زندگی مسلسل آزمائشوں سے بھری ہوئی تھی۔
جہاں بھی جاتا، اسے یہی لگتا کہ قسمت اس کے خلاف ہے۔
نوکری کی درخواست دیتا تو جواب نہیں آتا،
کاروبار شروع کرتا تو نقصان ہو جاتا۔
لوگ کہتے:
"تمہاری قسمت ہی خراب ہے۔"
ارشد خاموش رہتا، مگر دل میں سوال اٹھتے:
"کیا واقعی سب کچھ قسمت ہے؟ یا مجھ میں ہی کوئی کمی ہے؟"
ایک دن اس نے ایک بزرگ کو مسجد کے صحن میں بیٹھے دیکھا۔
چہرے پر عجیب سا سکون تھا، جیسے دنیا کی جلدی اسے چھو نہیں سکی ہو۔
ارشد نے دل کا حال کہہ دیا۔
بزرگ نے مسکرا کر کہا:
"بیٹا، صبر وہ دروازہ ہے جو باہر سے بند لگتا ہے، مگر اندر سے کھلتا ہے۔"
یہ جملہ ارشد کے دل میں بیٹھ گیا۔
اس دن کے بعد اس نے اپنی روش بدل لی۔
وہ نتائج کی فکر چھوڑ کر محنت پر دھیان دینے لگا۔
ناکامی آئی تو رکا نہیں،
ٹھہرا، سیکھا، اور پھر آگے بڑھا۔
مہینے سالوں میں بدلے۔
آہستہ آہستہ اس کی صلاحیت نکھرنے لگی۔
لوگ جو کبھی اس پر ترس کھاتے تھے، اب مشورہ مانگنے لگے۔
ایک دن اسے وہ نوکری مل گئی جس کا وہ برسوں سے انتظار کر رہا تھا۔
وہی دروازہ، جو بار بار بند ملا تھا،
آج خود بخود کھل گیا تھا۔
ارشد نے شکر ادا کیا۔
اسے اب سمجھ آ چکا تھا:
دروازے جلدی کھلیں یا دیر سے،
کھلتے ضرور ہیں — اگر صبر ساتھ ہو۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:
- صبر کمزوری نہیں، اندرونی طاقت ہے
- ہر بند دروازہ انکار نہیں ہوتا
- مستقل مزاجی کامیابی کی بنیاد ہے
- وقت لگتا ہے، مگر محنت رائیگاں نہیں جاتی
— اختتام —