واپس مڑنے والا دن
شاہد کو ہمیشہ لگتا تھا کہ وہ وقت کو مات دے سکتا ہے۔ نہ ذمہ داریوں کی فکر، نہ انجام کا خوف۔ زندگی اس کے نزدیک بس آج کا نام تھی۔
وہ جوان تھا، آزاد تھا، اور خود کو بہت سمجھدار سمجھتا تھا۔
گھر میں بوڑھے والد تھے، جو اکثر خاموشی سے اسے دیکھتے رہتے۔ ماں دنیا سے جا چکی تھی، اور اس کے بعد گھر میں نصیحتیں کم، خاموش دعائیں زیادہ ہو گئی تھیں۔
شاہد اکثر دیر رات گھر آتا۔ دوست، ہنسی مذاق، فضول بحثیں — یہی اس کی دنیا تھی۔
والد ایک دن بولے: "بیٹا، وقت کا بھی ایک حساب ہوتا ہے۔"
شاہد ہنس پڑا: "ابو، زندگی اتنی سخت نہیں جتنی آپ سمجھتے ہیں۔"
مگر زندگی خاموشی سے سن رہی تھی۔
چند مہینوں بعد شاہد کو ایک اچھی نوکری ملی۔ پہلی تنخواہ، پہلی خوشی، پہلا غرور۔
اس نے سوچا: "دیکھا؟ سب ٹھیک چل رہا ہے۔"
مگر ذمہ داری کے ساتھ اس نے لاپرواہی بھی بڑھا دی۔ دفتر میں دیر، کام میں غفلت، اور بہانے۔
ایک دن باس نے بلایا۔ آواز نرم تھی، مگر الفاظ سخت: "ہمیں آپ سے بہتر امید تھی۔"
یہ پہلا دھچکا تھا۔
اسی دوران والد کی طبیعت خراب ہونے لگی۔ ڈاکٹر نے احتیاط کا کہا، مگر شاہد کے پاس وقت نہیں تھا۔
"ابھی ایک ضروری کام ہے،" یہ جملہ اس کے منہ سے بار بار نکلتا رہا۔
پھر وہ دن آیا۔
شاہد کو اچانک دفتر سے کال آئی: "آپ کی خدمات اب مزید درکار نہیں۔"
وہ گم صم ہو گیا۔
اسی شام گاؤں سے فون آیا۔ والد اسپتال میں تھے۔
شاہد رات بھر سفر کر کے پہنچا۔ والد بستر پر لیٹے تھے، آنکھیں بند، سانس مدھم۔
شاہد نے کانپتی آواز میں کہا: "ابو… میں آ گیا ہوں۔"
بوڑھی آنکھیں کھلیں۔ ہونٹ ہلے: "دیر ہو گئی بیٹا… مگر آ گئے، یہی کافی ہے۔"
یہ آخری الفاظ تھے۔
اگلے دن والد مٹی کے سپرد ہو گئے۔ شاہد قبر کے پاس کھڑا تھا — اس کے پاس الفاظ نہیں تھے، صرف سوال تھے۔
وہی رات وہ اکیلا صحن میں بیٹھا رہا۔ آسمان خاموش تھا، مگر دل شور سے بھرا ہوا۔
اسی لمحے اسے احساس ہوا: زندگی نے اسے نہیں چھوڑا تھا، وہ خود زندگی سے بھاگ رہا تھا۔
اگلی صبح وہی شاہد نہیں تھا۔
اس نے خود سے وعدہ کیا: "اب نہیں بھاگوں گا۔"
اس نے چھوٹی نوکری سے آغاز کیا۔ والد کی سکھائی ہوئی دیانت کو پکڑا، اور صبر کو اپنا ہتھیار بنایا۔
مہینے لگے، پھر سال۔
آج شاہد کامیاب تھا، مگر اب غرور نہیں تھا۔
ہر صبح وہ والد کی قبر پر فاتحہ پڑھتا، اور دل ہی دل میں کہتا: "میں واپس آ گیا ہوں، ابو۔"
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:
- زندگی بار بار موقع نہیں دیتی، مگر واپسی کا راستہ رکھتی ہے
- غرور انسان کو وقت سے اندھا کر دیتا ہے
- ماں باپ کی خاموشی نصیحت سے زیادہ گہری ہوتی ہے
- سچی تبدیلی تب آتی ہے جب انسان خود سے جھوٹ بولنا چھوڑ دے
— اختتام —