← تمام اردو کہانیاں

آخری سیڑھی

A man standing at the bottom of a long staircase, light coming from the top, hopeful and dramatic mood

اسامہ کی زندگی شروع سے ہی آسان نہیں تھی۔ باپ جلد دنیا سے چلا گیا، اور ماں نے سلائی کر کے گھر چلایا۔

اسامہ پڑھنے میں اچھا تھا، مگر حالات نے اسے جلد بڑا بنا دیا تھا۔ اسکول کے بعد کام، اور رات کو کتابیں — یہی اس کا معمول تھا۔

میٹرک کے بعد اس نے کالج میں داخلہ لیا، مگر فیس کا مسئلہ ہمیشہ سامنے آ کھڑا ہوتا۔ کئی بار فارم بھر کر بھی جمع نہ کرا سکا۔

دوست آگے نکلتے گئے۔ کوئی یونیورسٹی میں، کوئی بیرونِ ملک۔

لوگ کہتے: "اب چھوڑ دو، تم سے نہیں ہو پائے گا۔"

اسامہ سنتا تھا، مگر اس کے اندر ایک ضد زندہ تھی۔

ایک بار اس نے ایک امتحان میں ناکامی دیکھی۔ نتیجہ ہاتھ میں تھا، اور آنکھوں میں آنسو۔

ماں نے خاموشی سے کہا: "بیٹا، شاید یہ سیڑھی ابھی تمہارے لیے نہیں تھی۔"

یہ جملہ اسامہ کے دل میں بیٹھ گیا۔ وہ سمجھ گیا: ہر سیڑھی ایک ہی بار میں نہیں چڑھی جاتی۔

اس نے دوبارہ تیاری شروع کی۔ اس بار آہستہ، سمجھ کے ساتھ۔

دن کام، رات پڑھائی، اور نیند بہت کم۔

دوسری بار بھی کامیابی پوری نہ ملی، مگر اس بار وہ ٹوٹا نہیں۔

تیسری بار… نتیجہ آیا تو اسامہ کا نام فہرست میں تھا۔

وہ ماں کے پاس آیا، کاغذ ہاتھ میں، اور آنکھوں میں یقین۔

ماں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ اسامہ نے دل ہی دل میں کہا: "یہ آخری سیڑھی نہیں… مگر اب میں جان گیا ہوں کہ اوپر کیسے جانا ہے۔"

آج اسامہ کامیاب ہے۔ مگر وہ ہر نئی کامیابی سے پہلے خود کو یاد دلاتا ہے: اگر وہ ایک بار رک جاتا، تو یہ سیڑھی ہمیشہ آخری رہ جاتی۔



معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:

زندگی میں اصل فرق گرنے سے نہیں، آخری بار کھڑے ہونے سے پڑتا ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →