← تمام اردو کہانیاں

ضمیر کی پکار

A man sitting alone at a desk at night, pen in hand, deep in thought, dim light creating shadows

فاروق ہمیشہ سمجھتا تھا کہ زندگی جیتنے کا مطلب دوسروں کو پیچھے چھوڑنا ہے۔ کاروبار میں وہ تیز، دفتر میں وہ سخت، اور گھر میں کبھی کبھی سرد تھا۔

وہ اپنے ضمیر کی آواز کو ہمیشہ نظرانداز کرتا رہا: "کیا یہ درست ہے؟" وہ بس خاموشی سے خود کو بہلاتا: "سب ہی تو ایسا کرتے ہیں۔"

ایک دن کمپنی کا ایک اہم معاہدہ سامنے آیا۔ فاروق جانتا تھا کہ اگر وہ چھوٹے نقص کو چھپائے، تو یہ بڑے نقصان میں بدل سکتا ہے۔ مگر ساتھ ہی دل میں خواہش بھی تھی: "کسی کو نہ پتا چلے، اور فائدہ حاصل ہو جائے۔"

معاملہ چپکے سے طے پا گیا۔ فاروق نے خوشی محسوس کی، مگر رات کو گھر آ کر وہ اپنے آپ کو آئینے میں دیکھ رہا تھا۔

آئینہ خاموش تھا، لیکن فاروق کو محسوس ہوا کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے — یہ اس کا ضمیر تھا۔

کچھ دن بعد وہی چھوٹا نقص بڑی مالی پریشانی میں بدل گیا۔ کمپنی کو نقصان ہوا، اور چند ساتھی اس پر انگلی اٹھانے لگے۔

فاروق نے پہچان لیا کہ وہ اپنے ضمیر کو سننے سے کتنی دور چلا گیا تھا۔

اس نے رات بھر سوچا۔ پھر اگلے دن سب کے سامنے اپنی غلطی قبول کی، نقصان پورا کرنے کی پیشکش کی، اور سیکھا کہ کچھ چیزیں پیسہ یا وقار سے زیادہ قیمتی ہیں — ضمیر اور ایمانداری۔

چند مہینوں میں کمپنی نے دوبارہ اعتماد دیا۔ فاروق کا دل سکون سے بھرا ہوا تھا، اور سب نے دیکھا کہ جو شخص ضمیر کے ساتھ چلتا ہے، وہ آخرکار صحیح مقام پر پہنچتا ہے۔



معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:

جو اپنے ضمیر کے ساتھ چلتا ہے، وہ دنیا کے شور سے بھی مطمئن رہتا ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →