اندرونی خوف
ریحان باہر سے ایک پُرسکون اور سمجھدار انسان لگتا تھا۔ کم بولتا، غور سے سنتا، اور کسی سے الجھتا نہیں تھا۔
مگر اس کے اندر ایک شور تھا جو کسی کو سنائی نہیں دیتا تھا۔
وہ ہر کام شروع کرنے سے پہلے سو بار سوچتا۔ ناکامی کا ڈر، لوگوں کی باتوں کا خوف، اور خود پر شک — یہ سب اس کے قدم باندھ دیتے۔
وہ اکثر کہتا: "ابھی نہیں، بعد میں۔"
حالانکہ دل جانتا تھا کہ "بعد میں" کبھی نہیں آئے گا۔
ایک اہم موقع سامنے آیا۔ سب کو اپنی رائے دینی تھی۔ ریحان کے پاس بہترین خیال تھا، مگر اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔
دل نے کہا: "اگر ہنس دیے تو؟ اگر غلط ہو گیا تو؟"
وہ خاموش رہا۔ کسی اور نے وہی خیال پیش کیا اور داد لے گیا۔
اس دن ریحان دیر تک بیٹھا رہا۔ اسے احساس ہوا کہ اس کا اصل دشمن باہر نہیں، اندر بیٹھا تھا۔
اسی رات اس نے خود سے ایک وعدہ کیا: "میں خوف کے ساتھ چلوں گا، اس کے پیچھے نہیں۔"
اگلے دن اس نے چھوٹا قدم اٹھایا۔ بڑا اعلان نہیں، صرف ایک سوال پوچھا۔
کسی نے نہیں ہنسایا۔ کسی نے نہیں روکا۔
پھر اس نے ایک رائے دی، پھر ایک تجویز، اور آہستہ آہستہ اس کی آواز مضبوط ہوتی گئی۔
مہینوں بعد وہی ریحان میٹنگ میں سب سے پہلے بولتا تھا۔ خوف اب بھی تھا، مگر اس کے پیچھے۔
ریحان جان چکا تھا: حوصلہ خوف کے ختم ہونے کا نام نہیں، حوصلہ خوف کے باوجود چلنے کا نام ہے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:
- سب سے بڑا خوف انسان کے اپنے ذہن میں ہوتا ہے
- خاموش رہنا ہمیشہ شرافت نہیں، کبھی کمزوری بھی ہوتا ہے
- حوصلہ خوف کے بغیر نہیں، خوف کے ساتھ پیدا ہوتا ہے
- چھوٹے قدم اندرونی دیواریں گرا سکتے ہیں
— اختتام —