حوصلے کا پہلا قدم
عادل ہمیشہ یہی سوچتا رہا کہ وہ تیار نہیں ہے۔
نہ وقت ٹھیک ہے، نہ حالات، نہ خود پر پورا یقین۔
اس کے خواب بڑے تھے، مگر قدم چھوٹے۔ وہ سوچتا تھا: "جب سب کچھ مکمل ہو جائے گا، تب شروع کروں گا۔"
مگر زندگی انتظار نہیں کرتی۔
عادل ایک معمولی نوکری کرتا تھا۔ ہر صبح ایک ہی راستہ، ایک ہی میز، اور ایک ہی فائلیں۔
دل میں ایک خواہش تھی کہ وہ اپنا کام کرے، کچھ ایسا جو اس کا ہو۔ مگر خوف کہتا: "ناکام ہو گئے تو؟ لوگ کیا کہیں گے؟"
یہ سوال اسے ہر روز روک لیتے۔
ایک شام وہ بس اسٹاپ پر کھڑا تھا۔ بارش ہلکی ہلکی ہو رہی تھی۔ اس نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا جو بھیگتے ہوئے اخبار بیچ رہا تھا۔
عادل نے پوچھا: "اتنی بارش میں بھی؟"
بوڑھا مسکرایا اور بولا: "بیٹا، رکنے سے کچھ نہیں بدلتا۔ چلنے سے شاید بدل جائے۔"
یہ جملہ عادل کے دل میں بیٹھ گیا۔
اسی رات اس نے کوئی بڑا منصوبہ نہیں بنایا۔ کوئی استعفیٰ نہیں دیا۔ بس ایک چھوٹا قدم اٹھایا۔
اس نے وہ کام شروع کیا جو وہ برسوں سے ٹالتا آ رہا تھا۔ روز ایک گھنٹہ، خاموشی سے۔
کچھ دن کوئی فرق نہیں پڑا۔ کچھ مہینے نتیجہ نظر نہیں آیا۔
مگر عادل رکا نہیں۔
وقت کے ساتھ اس کا اعتماد بڑھنے لگا۔ غلطیاں ہوئیں، مگر سیکھنے کو ملا۔
ایک دن اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ وہیں نہیں تھا جہاں سے چلا تھا۔
حوصلہ آہستہ آہستہ بنا تھا، اور سب کچھ اسی پہلے قدم سے شروع ہوا تھا۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:
- مکمل تیاری کا انتظار اکثر ہمیں روک دیتا ہے
- حوصلہ ایک دن میں نہیں بنتا
- پہلا قدم سب سے مشکل، مگر سب سے ضروری ہوتا ہے
- چھوٹے قدم بڑے راستے بنا دیتے ہیں
— اختتام —