وہ درخت جو سایہ نہیں دیتا تھا
گاؤں کے بیچوں بیچ ایک پرانا درخت کھڑا تھا۔ وہ نہ زیادہ گھنا تھا، نہ اس کی شاخوں پر پھل لگتے تھے۔ گرمیوں میں لوگ اس کے پاس سے گزرتے تو کہتے: “یہ کیسا درخت ہے، جو سایہ بھی نہیں دیتا؟”
درخت کچھ نہیں کہتا تھا۔ بس خاموشی سے کھڑا رہتا۔
اس درخت کے پاس حامد کی چھوٹی سی دکان تھی۔ حامد سادہ دل انسان تھا۔ وہ اکثر تھکے ماندے مسافروں کو پانی پلا دیتا، بغیر پیسے لیے۔
لوگ اس کی نرمی کو کمزوری سمجھتے تھے۔ کہتے: “اتنا اچھا بننے کا فائدہ کیا؟”
حامد مسکرا دیتا، بالکل اس درخت کی طرح خاموش۔
وقت گزرتا رہا۔ گاؤں میں قحط آیا، پانی کم ہو گیا، لوگ بے چین ہو گئے۔
ایک رات تیز آندھی آئی۔ بارش نہیں ہوئی، صرف ہوا چلتی رہی۔
صبح جب لوگ نکلے تو دیکھا کئی پختہ درخت جڑ سے اکھڑ چکے تھے، چھتیں گری ہوئی تھیں۔
مگر وہ پرانا درخت اب بھی وہیں کھڑا تھا۔
لوگ حیران ہوئے۔ انہوں نے دیکھا کہ اس کی جڑیں زمین میں بہت گہری تھیں۔
اسی دن حامد کی دکان بھی محفوظ رہی، کیونکہ وہ درخت ہوا کا زور توڑ دیتا تھا۔
لوگ پہلی بار اس درخت کے قریب بیٹھے۔
کسی نے کہا: “ہم نے غلط سمجھا تھا۔”
حامد نے آہستہ سے کہا: “ہر فائدہ فوراً نظر نہیں آتا۔”
کچھ دن بعد اسی درخت پر ننھی کونپلیں نکل آئیں۔ سایہ بھی آنے لگا۔
لوگ اب اس درخت کو “صبر کا درخت” کہتے تھے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ جو چیزیں شور نہیں مچاتیں،
وہی مشکل وقت میں سب سے مضبوط ثابت ہوتی ہیں۔
ہر انسان کا فائدہ
فوراً نظر نہیں آتا۔
سبق:
خاموشی، صبر اور گہرائی
آخرکار اپنی پہچان خود بنا لیتی ہیں۔
— اختتام —