واپس لوٹتی آواز
ساجد روز اسی گلی سے گزرتا تھا۔ ایک تنگ سی گلی، جہاں شام کے بعد روشنی کم اور خاموشی زیادہ ہوتی۔
ایک رات اس نے ایک کمزور سی آواز سنی: “بھائی… ذرا مدد…”
ساجد رکا۔ دل نے کہا پلٹ جا، دماغ نے کہا دیر ہو رہی ہے۔
وہ چلتا رہا۔
اگلے دن بھی وہی آواز اس کے کانوں میں گونجتی رہی، حالانکہ گلی خاموش تھی۔
دن گزرتے گئے، مگر آواز کم نہ ہوئی۔ وہ ہر وقت سنائی دیتی — کام میں، نیند میں، تنہائی میں۔
ایک ہفتے بعد خبر ملی کہ اسی گلی میں ایک بزرگ بے ہوشی میں ملے تھے، مگر بروقت مدد نہ ملنے سے جان نہ بچ سکی۔
ساجد کی ٹانگیں کانپ گئیں۔ وہ سمجھ گیا کہ آواز باہر نہیں، اس کے اندر سے آ رہی تھی۔
اس دن کے بعد ساجد بدل گیا۔ وہ رکتا تھا، سنتا تھا، مدد کرتا تھا۔ کیونکہ وہ جان چکا تھا کہ جو آواز آج نظرانداز کی جائے، وہ کل ضمیر بن کر لوٹتی ہے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ انسانیت کا تقاضا ہے کہ ہم دوسروں کی پکار پر رک جائیں۔
نظرانداز کی گئی مدد صرف ایک موقع نہیں کھوتی،
وہ انسان کے اندر ایک مستقل شور پیدا کر دیتی ہے۔
مدد کر لینا آسان ہے،
مگر ضمیر کی آواز سے بچنا مشکل۔
— اختتام —