آئینے کے پار
حمزہ کو لوگ کامیاب کہتے تھے۔ اچھی نوکری، صاف لباس، پراعتماد گفتگو۔ مگر ہر رات سونے سے پہلے وہ آئینے کے سامنے کھڑا ہو جاتا، اور چند لمحے خود کو دیکھتا رہتا۔
وہ نظر جو سامنے تھی، مضبوط لگتی تھی، مگر اندر کہیں کمزور تھی۔
دفتر میں وہ تیز فیصلے کرتا، مگر کئی بار وہ فیصلے کسی اور کے حق پر بھاری پڑتے۔
"کاروبار میں جذبات نہیں ہوتے" — وہ خود کو سمجھاتا۔
ایک رات وہ دیر سے گھر لوٹا۔ کمرے میں خاموشی تھی۔ اس نے حسبِ عادت آئینے میں خود کو دیکھا، مگر آج نظر کچھ مختلف تھی۔ آنکھوں میں سوال تھا۔
اسے یاد آیا وہ دوست جسے اس نے فائدے کے لیے پیچھے چھوڑ دیا تھا۔
وہ ملازم جس کی محنت کا کریڈٹ اس نے لے لیا تھا۔
وہ ماں جس سے اس نے مصروفیت کا بہانہ بنا کر بات ٹال دی تھی۔
حمزہ نے آئینے سے نظریں چرا لیں۔
اگلے دن اس نے ایک چھوٹا سا قدم اٹھایا۔ اس نے دفتر میں سچ بول دیا، کریڈٹ واپس کیا، اور دوست کو فون کیا۔ یہ سب آسان نہیں تھا، مگر ہلکا ضرور لگا۔
رات کو وہ دوبارہ آئینے کے سامنے کھڑا ہوا۔
اس بار عکس خاموش تھا، مگر مطمئن۔
حمزہ مسکرایا۔
وہ جان چکا تھا کہ آئینے کے پار وہی شخص ہے جس کے ساتھ اسے زندگی گزارنی ہے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- اصل احتساب خود سے شروع ہوتا ہے
- وقتی فائدہ ضمیر کا نقصان بن سکتا ہے
- سچائی مشکل ضرور ہے، مگر سکون دیتی ہے
- جو خود کو دیکھ لے، وہ دنیا کو بہتر دیکھ سکتا ہے
— اختتام —