← تمام اردو کہانیاں

کھڑکی کے پار

A small open window with sunlight streaming in, dust particles visible, warm and hopeful atmosphere

مریم ایک چھوٹے سے کمرے میں رہتی تھی۔ چھت پر پانی رس رہا تھا، اور ہر چیز زنگ آلود تھی۔ دنیا کے شور سے الگ، وہ اکثر اسی کھڑکی کے پاس بیٹھ کر باہر دیکھتی، مگر کسی سے بات نہیں کرتی تھی۔

مریم کے والد کا انتقال ہو چکا تھا، ماں بیمار، اور گھر کے حالات انتہائی مشکل تھے۔ اکثر مریم سوچتی:
"یہ زندگی کبھی آسان ہوگی؟"

ایک دن کھڑکی کے پار، گاؤں کے بچوں نے کھیلنا شروع کیا۔ ان کی ہنسی، شور، اور چھوٹی خوشیاں مریم کے دل میں روشنی لے آئیں۔
وہ خاموشی سے روز کھڑکی کے پاس بیٹھتی، بچوں کو دیکھتی اور دل میں امید جگاتی۔

ایک دن ایک غیر متوقع چیز ہوئی۔ کھڑکی کے پار ایک بزرگ خاتون، جو مریم کی خاموشی کو جانتی تھیں، آئے اور کہا:
"بیٹی، جو دنیا تمہیں باہر سے دکھائی دیتی ہے، وہ تمہارے دل میں بھی ہو سکتی ہے۔ تمہیں صرف قدم بڑھانا ہے۔"

یہ الفاظ مریم کے دل میں اتر گئے۔ اس نے اپنے کمرے کو صاف کیا، چھت کی مرمت کی، اور چھوٹے چھوٹے کام شروع کیے۔ پھر اس نے گاؤں کے بچوں کو پڑھانا شروع کیا۔

کھڑکی کے پار وہ دنیا جو کبھی بس نظارہ تھی، اب حقیقت بن گئی۔ مریم نے جانا کہ امید صرف باہر سے نہیں آتی، بلکہ ہم
خود اسے اپنی کھڑکی کے پار دیکھتے ہیں۔

کچھ مہینے بعد، مریم نے چھوٹا سا اسکول قائم کیا، اور وہی شور اور ہنسی اب اس کے کمرے کی کھڑکی کے پار نہیں، بلکہ ہر دن اس کی زندگی کا حصہ بن گئی۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

کھڑکی کے پار یاد دلاتی ہے کہ زندگی میں اندھیرا کبھی مستقل نہیں، اور ہر کھڑکی کے پار روشنی موجود ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →