← تمام اردو کہانیاں

وہ لمحہ جو رُک گیا

A busy city street blurred with motion, one person standing still in sharp focus, reflective mood

حسن ہمیشہ جلدی میں رہتا تھا۔

جلدی میں اٹھنا،
جلدی میں ناشتہ،
جلدی میں دفتر،
اور جلدی میں زندگی۔

وہ ہر کام وقت پر کرتا تھا، مگر کبھی خود کو وقت نہیں دیتا تھا۔ اس کے موبائل میں یاددہانیوں کی بھرمار تھی، مگر دل میں سکون کی ایک بھی اطلاع نہیں تھی۔

لوگ اسے کامیاب کہتے تھے۔ اچھی نوکری، منظم زندگی، اور واضح مستقبل۔ مگر حسن کو اکثر یہ احساس ہوتا کہ وہ سب کچھ کر رہا ہے، سوائے جینے کے۔

ایک دن وہ میٹنگ کے لیے دیر سے نکل رہا تھا۔ ٹریفک معمول سے زیادہ تھا۔ ہارن، شور، اور بے چینی ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔

اچانک سگنل پر گاڑیاں رک گئیں۔

حسن نے گھڑی دیکھی، جھنجھلاہٹ ہوئی۔
"آج بھی وقت ضائع ہو رہا ہے۔"

اسی لمحے اس کی نظر سڑک کنارے بیٹھے ایک بوڑھے شخص پر پڑی۔ وہ خاموشی سے چائے پی رہا تھا، جیسے اسے کہیں پہنچنے کی جلدی نہ ہو۔

حسن نے دوبارہ دیکھا۔
بوڑھے کے چہرے پر عجب سا سکون تھا۔

سگنل ابھی بھی بند تھا، مگر حسن کے اندر کچھ رک گیا تھا۔

اس نے خود سے سوال کیا:
"آخر میں اتنی جلدی کس چیز کی کر رہا ہوں؟"

اس نے خود سے سوال کیا:
"آخر میں اتنی جلدی کس چیز کی کر رہا ہوں؟"

میٹنگ میں پہنچ کر بھی اس کا ذہن وہیں اٹکا رہا۔ الفاظ بول رہا تھا، مگر دل سن رہا تھا۔

پہلی بار اسے وقت لمبا لگا — مگر برا نہیں۔

وہ سانسوں کو محسوس کرنے لگا، آس پاس کے لوگوں کو دیکھنے لگا، اور اپنے اندر کی آواز سننے لگا۔ اسے احساس ہوا کہ وہ برسوں سے ہر لمحہ استعمال تو کر رہا تھا، مگر محسوس نہیں کر رہا تھا۔

آہستہ آہستہ حسن نے اپنی زندگی کی رفتار بدلنا شروع کی۔
کام وہی رہا، مگر انداز بدل گیا۔
مصروفیت وہی رہی، مگر شعور کے ساتھ۔

اب وہ جان چکا تھا کہ
جو لمحہ ہمیں روک دے، وہ ہمیں زندگی سکھانے آتا ہے۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

وہ لمحہ جو رُک گیا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ
اگر ہم کبھی رک کر سانس نہ لیں،
تو زندگی ہمارے ساتھ چلتی ضرور ہے،
مگر ہمیں چھوتی نہیں۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →