سانسوں کے درمیان وقفہ
ریحان کو ہمیشہ جلدی رہتی تھی۔ کہیں پہنچنا ہو یا کچھ حاصل کرنا ہو— اس کے قدم ہمیشہ آگے کی طرف دوڑتے تھے۔
وہ کہتا تھا: “رکنے کا وقت نہیں، زندگی پیچھے رہ جائے گی۔”
ریحان ایک بڑی کمپنی میں پروجیکٹ مینیجر تھا۔ فون بجتا رہتا، میل آتے رہتے، اور ذہن کبھی خاموش نہیں ہوتا تھا۔
وہ ایک سانس میں کئی کام کرنا چاہتا تھا، مگر کسی کام میں مکمل نہیں ہوتا تھا۔
ایک دن میٹنگ کے دوران اسے چکر آیا۔
کرسی پکڑ کر بیٹھ گیا۔ دل تیز دھڑک رہا تھا، سانس بے ترتیب۔
سب گھبرا گئے۔ اسپتال لے جایا گیا۔
رپورٹس نارمل تھیں۔ ڈاکٹر نے بس اتنا کہا: “تم سانس لینا بھول گئے ہو۔”
یہ جملہ ریحان کو عجیب لگا۔
“سانس تو لے رہا ہوں،” اس نے کہا۔
ڈاکٹر مسکرایا: “جسم لے رہا ہے، تم نہیں۔”
ڈاکٹر نے اسے مشورہ دیا کہ روز کچھ لمحے خاموشی میں بیٹھا کرے۔
پہلے دن ریحان کو پانچ منٹ پانچ گھنٹے لگے۔
خیالات شور مچاتے رہے، موبائل ہاتھ میں کھجلاتا رہا۔
مگر وہ بیٹھا رہا۔
آہستہ آہستہ اس نے محسوس کیا کہ دو سانسوں کے درمیان ایک لمحہ ہوتا ہے— خاموش، ساکت، محفوظ۔
اسی لمحے میں اسے اپنا دل سنائی دیا، اپنی تھکن محسوس ہوئی، اور وہ خواہشیں بھی جو کب کی دب چکی تھیں۔
وہ اب بھی کام کرتا تھا، مگر بھاگتا نہیں تھا۔
میٹنگز کم نہ ہوئیں، مگر اس کی آواز اب کانپتی نہیں تھی۔
ایک دن اس نے سڑک پر ایک بوڑھے کو بیٹھے دیکھا جو ٹریفک کے شور میں آنکھیں بند کیے خاموش تھا۔
ریحان رک گیا۔
اس نے جان لیا کہ زندگی صرف سانسوں کا سلسلہ نہیں، بلکہ ان کے درمیان کے وقفے کا نام ہے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- رفتار اور زندگی ایک چیز نہیں
- مسلسل دوڑ انسان کو خود سے دور کر دیتی ہے
- اصل سکون خاموش لمحوں میں چھپا ہوتا ہے
- جو رکنا سیکھ لے، وہی آگے بڑھتا ہے
وہی زندگی کا اصل وقت ہے۔
— اختتام —