برکت کا راز
صبح کی اذان ابھی ختم ہوئی تھی۔ گلی میں خاموشی تھی، مگر ایک دکان کے شٹر کی آواز گونج رہی تھی۔ عبدالرحمٰن ہر روز اسی وقت اپنی چھوٹی سی کریانے کی دکان کھولتا تھا۔
دکان چھوٹی تھی، مگر نیت صاف تھی۔
عبدالرحمٰن کے ہاتھ میں تسبیح ہوتی، اور زبان پر ہمیشہ یہی دعا:
“یا اللہ، آج بھی حلال دے، چاہے کم ہی کیوں نہ ہو۔”
اس کے پڑوس میں ایک بڑی دکان تھی۔ شو کیس چمکتے تھے، گاہک زیادہ تھے، اور کمائی بھی۔ لوگ کہتے تھے: “عبدالرحمٰن! ذرا عقل سے کام لو، زمانہ بدل گیا ہے۔”
وہ مسکرا کر کہتا:
“رزق اللہ دیتا ہے، دکان نہیں۔”
ایک دن سپلائر آیا۔ اس نے سستے داموں خراب مال پیش کیا۔ بولا:
“کوئی نہیں پہچانے گا، سب یہی کرتے ہیں۔”
عبدالرحمٰن نے خاموشی سے مال دیکھا، پھر انکار کر دیا۔
دل میں خیال آیا:
“اگر بیچ دوں تو مہینہ آسان گزر جائے گا۔”
مگر فوراً خود کو روکا۔
“حرام سے آسانی نہیں آتی، آزمائش آتی ہے۔”
شام کو دکان پر ایک بوڑھی عورت آئی۔
کہنے لگی:
“بیٹا، تھوڑا آٹا چاہیے، پیسے پورے نہیں۔”
عبدالرحمٰن نے آٹا تول کر دے دیا، اور پیسے نہیں لیے۔
عورت کی آنکھوں میں دعا اتر آئی۔
مہینے مشکل سے گزر رہے تھے، مگر سکون تھا۔
گھر میں سادہ کھانا، مگر اطمینان۔
ایک دن اچانک محلے میں چوری ہو گئی۔ بڑی دکان پر چھاپہ پڑا۔ ملاوٹ اور دھوکے کا انکشاف ہوا۔
دکان سیل ہو گئی۔
لوگ عبدالرحمٰن کے پاس آنے لگے۔
وہی چھوٹی دکان، مگر اب بھری ہوئی۔
چند مہینوں میں اس نے قرض اتار دیا۔
بیٹی کی تعلیم کا انتظام ہو گیا۔
اور سب سے بڑھ کر—دل مطمئن ہو گیا۔
ایک رات وہ سجدے میں تھا۔
آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے:
“یا اللہ، تو نے سچ کر دکھایا۔”
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- رزق کی مقدار نہیں، پاکیزگی اہم ہے
- حرام وقتی فائدہ دیتا ہے، مگر انجام تلخ ہوتا ہے
- حلال رزق میں برکت اور دل کا سکون ہوتا ہے
- جو اللہ پر بھروسا کرے، اللہ اس کے لیے راستے کھول دیتا ہے
— اختتام —