وہ دعائیں جو قبول نہ ہوئیں
فاطمہ کو دعا کرنا آتا تھا۔
وہ بچپن سے
ہر بات پر دعا کرتی آئی تھی۔
امتحان ہو،
بارش ہو،
یا دل کی کوئی خواہش —
وہ ہاتھ اٹھا لیتی۔
اور اکثر
دعا قبول ہو جاتی۔
اس لیے اسے یقین تھا
کہ جو دل سے مانگا جائے،
وہ مل ہی جاتا ہے۔
پھر ایک دن
زندگی سنجیدہ ہو گئی۔
اس کے والد بیمار پڑ گئے۔
ڈاکٹر،
دوائیں،
دعائیں۔
فاطمہ نے
وہ سب کچھ کیا
جو ایک بیٹی کر سکتی ہے۔
وہ راتوں کو جاگتی،
آنکھوں میں آنسو،
اور زبان پر ایک ہی دعا:
“اللہ،
بس ابو کو ٹھیک کر دے۔
میں کچھ نہیں مانگوں گی۔”
یہ وعدہ
اس نے کئی بار دہرایا۔
مگر بیماری
کم نہیں ہوئی۔
ہر سجدہ
پچھلے سے لمبا ہوتا گیا۔
ہر دعا
پچھلی سے زیادہ بےبس۔
ایک دن
اس کے والد چلے گئے۔
خاموشی سے۔
اس دن
فاطمہ نے دعا نہیں کی۔
اس دن
وہ پہلی بار
اللہ سے ناراض ہوئی۔
وہ سوچتی رہی:
“میں نے تو مانگا تھا۔
رو رو کر مانگا تھا۔
پھر کیوں؟”
لوگ کہتے:
“اللہ کی مرضی۔”
یہ جملہ
اسے چبھتا تھا۔
کیونکہ مرضی
ہمیشہ سمجھ نہیں آتی۔
وہ نماز پڑھتی رہی،
مگر دل شامل نہیں ہوتا تھا۔
سجدہ ہوتا،
مگر آنکھیں خشک۔
دعا ہوتی،
مگر امید کے بغیر۔
وقت گزرا۔
زندگی آگے بڑھی —
مجبوراً۔
ایک دن
وہ ایک پرانی ڈائری پڑھ رہی تھی۔
اس میں
اپنے ابو کے لیے
لکھی ہوئی دعائیں تھیں۔
ہر صفحہ
ایک امید تھا۔
وہ رو پڑی۔
اور اسی رونے میں
اسے ایک بات سمجھ آئی:
دعا
ہمیشہ وہ نہیں دیتی
جو ہم چاہتے ہیں،
بلکہ وہ دیتی ہے
جو ہمیں سنبھال سکے۔
اگر اس کے ابو
اس بیماری کے ساتھ
زندہ رہتے،
تو شاید
وہ خود ٹوٹ جاتے۔
شاید وہ زندگی
ان کے لیے بوجھ بن جاتی۔
یہ سوچ
درد کم نہیں کرتی تھی،
مگر اسے
معنی دیتی تھی۔
فاطمہ نے سیکھا
کہ دعا کا رد ہونا
مطلب انکار نہیں۔
کبھی کبھی
یہ حفاظت ہوتی ہے،
کبھی تیاری،
اور کبھی
کسی بڑے صبر کی ابتدا۔
اب بھی
کچھ دعائیں
اس کی فہرست میں ہیں
جو پوری نہیں ہوئیں۔
مگر اب
وہ ہاتھ اٹھاتے وقت
یہ کہتی ہے:
“یا اللہ،
وہ دے
جو میرے لیے بہتر ہے —
چاہے میں ابھی
نہ سمجھ سکوں۔”
اور یہی
اس کی سب سے بڑی قبولیت تھی۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- ہر قبول نہ ہونے والی دعا رد نہیں ہوتی
- ایمان ہمیشہ جواب ملنے کا نام نہیں
- شکوہ بھی عبادت کا ایک مرحلہ ہو سکتا ہے
- وقت کے ساتھ دعا کا مطلب بدل جاتا ہے
ہمیں یاد دلاتی ہے کہ
اللہ ہمیشہ
ہماری خواہش پوری نہیں کرتا،
مگر
ہمیں کبھی تنہا بھی نہیں چھوڑتا۔
کچھ دعائیں
زندگی بدلنے کے لیے نہیں،
ہمیں بدلنے کے لیے ہوتی ہیں۔
— اختتام —