ریت کا محل
گوادر کے ساحل پر شام کا وقت ہمیشہ جادوئی لگتا تھا۔ سورج آہستہ آہستہ سمندر میں ڈوبتا، اور سنہری روشنی ریت پر بکھر جاتی۔ اسی ساحل پر بارہ سالہ فہد روز شام کو آتا تھا۔
فہد کو ریت کے محل بنانے کا شوق تھا۔ وہ گھنٹوں بیٹھ کر نہایت محنت سے اونچی دیواریں، باریک مینار، اور چھوٹے دروازے بناتا۔ لوگ گزرتے ہوئے رک کر اس کے محل کو دیکھتے اور تعریف کرتے، مگر فہد کے لیے یہ صرف کھیل نہیں تھا — یہ اس کا خواب تھا کہ ایک دن وہ ایک بڑا معمار بنے گا۔
ایک دن اس نے فیصلہ کیا کہ وہ آج تک کا سب سے بڑا محل بنائے گا۔
وہ صبح ہی ساحل پر پہنچ گیا۔ اس نے گیلی ریت اکٹھی کی، پانی کا درست اندازہ لگایا، اور بڑی احتیاط سے بنیاد رکھی۔ سورج چڑھتا گیا، مگر فہد اپنی دنیا میں مگن رہا۔ اس کے ہاتھ ریت سے بھر گئے، پیشانی پر پسینہ چمکنے لگا، مگر اس کی آنکھوں میں چمک تھی۔
دوپہر تک ایک شاندار محل کھڑا تھا۔ اس کے چاروں طرف خندق تھی، اونچے مینار تھے، اور درمیان میں ایک بڑا دروازہ۔ فہد نے پیچھے ہٹ کر اپنے کام کو دیکھا اور اس کے چہرے پر فخر بھری مسکراہٹ آ گئی۔
اسی وقت قریب بیٹھے ایک بوڑھے ماہی گیر نے آواز دی،
“بیٹا، بہت خوبصورت محل بنایا ہے۔”
فہد خوش ہو کر بولا، “میں اسے شام تک محفوظ رکھوں گا۔ کسی کو خراب نہیں کرنے دوں گا!”
بوڑھا ہلکا سا مسکرایا، مگر کچھ نہ بولا۔
شام کے قریب سمندر کی لہریں تیز ہونے لگیں۔ ایک بڑی لہر آگے بڑھی اور محل کے کنارے کو چھو گئی۔ فہد گھبرا کر آگے آیا اور ہاتھوں سے ریت کو سنبھالنے لگا۔
“نہیں! اسے مت گراؤ!” وہ بے بسی سے بولا۔
مگر لہریں رکنے والی نہیں تھیں۔ ایک کے بعد ایک لہر آئی، اور دیکھتے ہی دیکھتے فہد کا خوبصورت محل بکھر گیا۔ اونچے مینار گر گئے، دیواریں بہہ گئیں، اور چند لمحوں میں وہاں صرف ہموار ریت باقی رہ گئی۔
فہد کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ وہیں بیٹھ گیا، دل ٹوٹا ہوا۔
بوڑھا ماہی گیر آہستہ آہستہ اس کے پاس آیا اور اس کے برابر بیٹھ گیا۔
“اداس ہو؟” اس نے نرمی سے پوچھا۔
فہد نے بھری آواز میں کہا، “میں نے سارا دن لگایا تھا… سب ختم ہو گیا۔”
بوڑھے نے ریت کی طرف اشارہ کیا۔
“دیکھو، ریت ابھی بھی یہیں ہے۔ تمہاری محنت کہیں نہیں گئی۔ تم چاہو تو اس سے پہلے سے بہتر محل بنا سکتے ہو۔”
فہد نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔
بوڑھا بولا،
“زندگی بھی اسی ساحل کی طرح ہے۔ ہم بڑی محنت سے اپنے خواب بناتے ہیں۔ کبھی کوئی لہر آتی ہے اور سب بہا لے جاتی ہے۔ اگر ہم ہر بار بیٹھ کر روتے رہیں، تو ہم کبھی کچھ نیا نہیں بنا پائیں گے۔ اصل طاقت دوبارہ کھڑے ہونے میں ہے۔”
یہ الفاظ فہد کے دل میں اتر گئے۔ اس نے اپنے آنسو پونچھے، گہری سانس لی، اور دوبارہ ریت اکٹھی کرنے لگا۔
اس بار وہ پہلے سے زیادہ پراعتماد تھا۔ سورج ڈوب رہا تھا، مگر فہد ایک نیا محل بنا رہا تھا — پہلے سے زیادہ مضبوط، پہلے سے زیادہ خوبصورت۔
جب آخری کرن سمندر میں غائب ہوئی، فہد نے اپنا نیا محل مکمل کر لیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ شاید اگلی لہر اسے بھی بہا لے جائے، مگر اس بار اس کے دل میں خوف نہیں تھا۔
اس نے مسکرا کر سمندر کو دیکھا، جیسے ایک خاموش چیلنج دے رہا ہو۔ اب اسے معلوم تھا کہ محل گرنے سے خواب ختم نہیں ہوتے — جب تک بنانے والا ہار نہ مانے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ ناکامی زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ جو چیزیں ہم بڑی محنت سے بناتے ہیں، وہ کبھی کبھار اچانک ختم ہو جاتی ہیں۔ مگر اصل کامیابی اس میں ہے کہ ہم ہمت نہ ہاریں اور دوبارہ کوشش کریں۔ وسائل ختم نہیں ہوتے — صرف ہمارا حوصلہ ختم ہوتا ہے۔ جو شخص ہر بار گر کر اٹھنا سیکھ لے، وہی آخرکار مضبوط بنتا ہے۔
— اختتام —