ادھورا خواب
علی کو بچپن سے ہی ایک خواب تھا—وہ ایک بڑا مصور بننا چاہتا تھا۔
اس کے کمرے کی دیواریں اس کے بنائے ہوئے خاکوں سے بھری ہوئی تھیں۔ ہر تصویر میں ایک کہانی ہوتی، ایک احساس ہوتا۔
مگر گھر کے حالات مختلف تھے۔ والد چاہتے تھے کہ علی جلدی کوئی نوکری کرے اور گھر کا سہارا بنے۔
“یہ تصویریں پیٹ نہیں بھرتیں،” والد اکثر کہتے۔
علی خاموش ہو جاتا، مگر اس کا دل مانتا نہیں تھا۔
وقت گزرتا گیا۔ علی نے ایک چھوٹی سی نوکری کر لی۔ دن بھر کام، رات کو تھکن۔ برش اور رنگ آہستہ آہستہ الماری کے کونے میں دب گئے۔
ایک رات، وہ چھت پر بیٹھا شہر کی روشنیوں کو دیکھ رہا تھا۔
اس نے خود سے کہا،
“شاید میرا خواب ادھورا ہی رہ جائے گا…”
اسی لمحے اس کی نظر ایک چھوٹے بچے پر پڑی جو سڑک کنارے چاک سے زمین پر کچھ بنا رہا تھا۔
علی نیچے گیا۔ بچے نے مسکرا کر کہا،
“دیکھیں، میں نے گھر بنایا ہے!”
وہ تصویر سادہ تھی، مگر اس میں خوشی تھی۔
علی کو اچانک احساس ہوا—
خواب صرف بڑے بننے کے لیے نہیں ہوتے،
خواب جینے کے لیے ہوتے ہیں۔
اگلے دن اس نے اپنی پرانی ڈرائنگ نکالی۔
اب وہ روز تھوڑا سا وقت نکالتا، کچھ نہ کچھ بناتا۔
وہ مشہور نہیں ہوا، نہ ہی اس کی نمائش لگی—
مگر اس کے اندر کا سکون واپس آ گیا۔
اس کا خواب مکمل نہیں ہوا تھا،
مگر ادھورا بھی نہیں رہا تھا۔
معنی اور غور و فکر—
👉 خواب صرف نتیجے کا نام نہیں، سفر کا بھی نام ہیں۔
👉 ادھورا خواب بھی انسان کو مکمل کر سکتا ہے۔
👉 اگر ہم اپنے شوق کو زندہ رکھیں، تو زندگی خوبصورت رہتی ہے۔
علی نے یہ سیکھ لیا تھا کہ
کبھی کبھی جیتنا ضروری نہیں ہوتا—
محسوس کرنا ضروری ہوتا ہے۔
— اختتام —