وہ عورت جو سب کے لیے جیتی رہی
نادیہ کی زندگی ہمیشہ کسی نہ کسی کے گرد گھومتی رہی۔
بچپن میں والدین، پھر شادی کے بعد شوہر، اور پھر بچے۔
اس نے کبھی شکایت نہیں کی۔
اسے لگتا تھا کہ یہی زندگی ہے—دوسروں کے لیے جینا۔
صبح سب سے پہلے اٹھنا، سب کے لیے ناشتہ بنانا، بچوں کو اسکول بھیجنا، شوہر کے کپڑے تیار کرنا، گھر سنبھالنا—
یہ سب اس کی روزمرہ کی زندگی کا حصہ تھا۔
کبھی اس نے آئینے میں خود کو غور سے نہیں دیکھا۔
کبھی اس نے نہیں سوچا کہ وہ کیا چاہتی ہے۔
ایک دن اس کی بیٹی نے پوچھا،
“امّی، آپ کو کیا پسند ہے؟”
نادیہ چند لمحے خاموش رہی۔
یہ سوال اس کے لیے نیا تھا۔
وہ مسکرائی اور بولی،
“مجھے… تم لوگ پسند ہو۔”
بیٹی نے ہنس کر کہا،
“وہ تو ٹھیک ہے، مگر آپ کو خود کیا پسند ہے؟”
نادیہ کے پاس جواب نہیں تھا۔
وقت گزرتا گیا۔ بچے بڑے ہو گئے۔
بیٹا باہر شہر چلا گیا، بیٹی کی شادی ہو گئی۔
گھر وہی تھا—
مگر اب خاموش تھا۔
ایک شام، نادیہ اکیلی کچن میں بیٹھی تھی۔
کام ختم ہو چکا تھا، مگر کرنے کو کچھ نہیں تھا۔
پہلی بار، اسے اپنی خاموشی سنائی دی۔
اس نے آہستہ سے آئینے کی طرف دیکھا۔
چہرے پر تھکن تھی، آنکھوں میں سالوں کی کہانیاں۔
اسی لمحے اسے احساس ہوا—
وہ سب کے لیے جیتی رہی…
مگر اپنے لیے کبھی نہیں جیا۔
اگلے دن، اس نے ایک چھوٹا سا فیصلہ کیا۔
وہ قریبی لائبریری گئی۔
کتابیں اس کے لیے نئی نہیں تھیں—مگر یہ احساس نیا تھا کہ وہ اپنے لیے آئی ہے۔
وہ روز تھوڑا وقت اپنے لیے نکالنے لگی۔
کبھی پڑھتی، کبھی لکھتی، کبھی بس خاموش بیٹھتی۔
ایک دن اس نے اپنی بیٹی کو فون کیا اور کہا،
“آج میں نے اپنی پسند کی چائے بنائی… صرف اپنے لیے۔”
دوسری طرف خاموشی تھی—پھر ایک خوشی بھری آواز آئی،
“امّی… اب آپ نے جینا شروع کیا ہے۔”
نادیہ مسکرا دی۔
اس نے زندگی نہیں بدلی تھی—
اس نے خود کو شامل کر لیا تھا۔
معنی اور غور و فکر—
👉 دوسروں کے لیے جینا خوبصورت ہے، مگر خود کو بھول جانا نہیں۔
👉 ہر انسان کو اپنے لیے بھی وقت نکالنا چاہیے۔
👉 شناخت کھو جائے تو سب کچھ ہونے کے باوجود خالی پن رہ جاتا ہے۔
نادیہ نے دیر سے سیکھا—
مگر سیکھ لیا کہ
زندگی میں سب سے اہم رشتہ
اپنا اپنے ساتھ ہوتا ہے۔
— اختتام —