وہ بیٹا جو کبھی بڑا نہ ہوا
ارسلان تیس سال کا ہو چکا تھا، مگر اس کی زندگی اب بھی ایک لاپرواہ لڑکے جیسی تھی۔
دیر تک سونا، دوستوں کے ساتھ گھومنا، اور ہر بات کو ہنسی میں ٹال دینا—یہی اس کا معمول تھا۔
گھر میں اس کے والد تھے—حاجی صاحب۔
ایک محنتی، سنجیدہ اور خاموش انسان۔
وہ اکثر ارسلان کو سمجھاتے،
“بیٹا، اب تمہیں سنبھل جانا چاہیے۔ زندگی مذاق نہیں ہوتی۔”
مگر ارسلان ہنستے ہوئے کہتا،
“ابو، ابھی تو پوری زندگی پڑی ہے۔”
حاجی صاحب خاموش ہو جاتے۔
وقت گزرتا رہا، مگر ارسلان نہیں بدلا۔
نہ اس نے کوئی مستقل کام شروع کیا، نہ کسی ذمہ داری کو سنجیدگی سے لیا۔
پھر ایک دن، سب کچھ بدل گیا۔
حاجی صاحب اچانک بیمار ہو گئے۔
گھر کے اخراجات رک گئے، دوائیاں بڑھ گئیں، اور ذمہ داریاں دروازے پر آ کھڑی ہوئیں۔
ارسلان پہلی بار پریشان ہوا۔
اس نے نوکری ڈھونڈنے کی کوشش کی، مگر ہر جگہ اسے ایک ہی جواب ملا:
“آپ کے پاس تجربہ نہیں ہے۔”
یہ الفاظ اس کے لیے نیا نہیں، مگر اب بوجھل لگنے لگے تھے۔
گھر آ کر اس نے اپنے والد کو بستر پر لیٹے دیکھا—کمزور، خاموش، مگر اب بھی فکر مند۔
حاجی صاحب نے آہستہ سے کہا،
“بیٹا، فکر نہ کرو… سب ٹھیک ہو جائے گا…”
یہ وہی جملہ تھا جو وہ ہمیشہ کہتے تھے—
مگر آج اس میں ایک درد تھا۔
اس رات ارسلان سو نہیں سکا۔
اس نے اپنی زندگی کو پہلی بار سنجیدگی سے دیکھا۔
اگلے دن، وہ صبح جلدی اٹھا۔
ہر ممکن جگہ گیا، ہر چھوٹا بڑا کام قبول کیا۔
شروع میں مشکل تھی، تھکن تھی، مگر وہ رکا نہیں۔
چند مہینوں بعد، وہ ایک معمولی نوکری میں تھا—
مگر اس کی سوچ بدل چکی تھی۔
ایک شام، وہ اپنے والد کے پاس بیٹھا اور بولا،
“ابو… میں دیر سے بڑا ہوا ہوں… مگر اب میں سنبھل گیا ہوں۔”
حاجی صاحب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
انہوں نے بس اتنا کہا،
“بیٹا، دیر سے سیکھا ہوا سبق بھی کامیابی ہوتا ہے۔”
معنی اور غور و فکر—
👉 عمر بڑھنے سے انسان بڑا نہیں ہوتا—ذمہ داری لینے سے ہوتا ہے۔
👉 وقت پر نہ سیکھا جائے تو زندگی خود سکھا دیتی ہے۔
👉 والدین کی خاموش فکر کو سمجھنا ضروری ہے۔
ارسلان دیر سے بدلا—
مگر اس نے خود کو کھویا نہیں،
بلکہ پا لیا۔
— اختتام —