وہ آدمی جو سب کو ہنساتا تھا
فیضان جہاں بھی جاتا، ماحول بدل جاتا تھا۔
دفتر ہو، شادی ہو، دوستوں کی محفل ہو یا محلے کی بیٹھک—
لوگ کہتے،
“یار، اگر فیضان آ جائے تو محفل بن جاتی ہے۔”
اس کے لطیفے، اندازِ گفتگو، اور ہر مشکل بات کو ہنسی میں بدل دینے کی عادت لوگوں کو اس کے قریب رکھتی تھی۔
وہ دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹ لانا جانتا تھا۔
مگر کوئی یہ نہیں جانتا تھا کہ
رات کو اپنے کمرے میں واپس جا کر وہ خاموشی سے چھت کو دیکھتا رہتا تھا۔
فیضان کی زندگی باہر سے جتنی روشن لگتی تھی، اندر سے اتنی ہی خالی تھی۔
اس کے والد بچپن میں ہی انتقال کر گئے تھے۔
ماں نے بڑی محنت سے اسے پالا۔
فیضان نے بہت جلد سیکھ لیا تھا کہ
اگر گھر میں وہ بھی اداس ہو گیا، تو ماں ٹوٹ جائے گی۔
اسی لیے وہ ہمیشہ ہنستا رہا۔
پہلے ماں کے لیے، پھر لوگوں کے لیے، اور پھر عادتاً۔
وقت گزرتا گیا۔
ماں بھی دنیا سے چلی گئیں۔
اس دن جنازے میں سب لوگ فیضان کے گرد تھے۔
کوئی کہہ رہا تھا،
“ہمت رکھو…”
کوئی کہہ رہا تھا،
“تم تو بہت مضبوط ہو…”
اور فیضان…
وہ سب کو تسلی دے رہا تھا۔
لوگ حیران تھے کہ وہ رو کیوں نہیں رہا۔
مگر حقیقت یہ تھی کہ
کچھ دکھ آنسوؤں سے نہیں نکلتے—وہ اندر جم جاتے ہیں۔
ماں کے جانے کے بعد، اس کا گھر عجیب حد تک خاموش ہو گیا تھا۔
پہلے وہ دفتر سے آ کر اونچی آواز میں کہتا،
“امّی، کھانا دے دیں، بہت بھوک لگی ہے!”
اور کچن سے آواز آتی،
“ہاتھ دھو لو پہلے!”
اب دروازہ کھلتا،
اور خاموشی اس کا استقبال کرتی۔
پھر بھی، اگلی صبح وہ دفتر گیا۔
پھر وہی ہنسنا، وہی مذاق، وہی لوگوں کو خوش کرنا۔
کیونکہ لوگ اسے اسی روپ میں جانتے تھے۔
ایک دن دفتر میں ایک نئی لڑکی آئی—مریم۔
وہ باقی لوگوں کی طرح صرف فیضان کی باتوں پر نہیں ہنستی تھی،
وہ اسے غور سے دیکھتی تھی۔
ایک شام، سب لوگ جا چکے تھے۔
فیضان اپنی کرسی پر خاموش بیٹھا تھا۔
مریم نے آہستہ سے پوچھا،
“آپ ہر وقت سب کو ہنساتے کیوں رہتے ہیں؟”
فیضان نے ہلکا سا مذاق کیا، “کیونکہ میں کامیڈین ہوں۔”
مریم نے سنجیدگی سے کہا،
“نہیں… کیونکہ آپ نہیں چاہتے کہ کوئی آپ کا درد دیکھ لے۔”
یہ سن کر پہلی بار فیضان خاموش ہو گیا۔
اسے لگا جیسے کسی نے اس کے اندر چھپی ہوئی چیز دیکھ لی ہو۔
کئی لمحوں تک وہ کچھ نہ بول سکا۔
پھر آہستہ سے بولا،
“اگر میں رک جاؤں… تو شاید ٹوٹ جاؤں گا۔”
مریم نے صرف ایک جملہ کہا:
“ہر وقت مضبوط رہنا بھی تھکا دیتا ہے۔”
یہ جملہ اس کے دل میں اتر گیا۔
اس رات، برسوں بعد، فیضان نے خود کو رونے دیا۔
نہ لوگوں کے سامنے، نہ ہنستے ہوئے—
بلکہ ایک عام انسان کی طرح۔
پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ
دکھ چھپانے سے ختم نہیں ہوتا۔
آہستہ آہستہ، اس نے بدلنا شروع کیا۔
وہ اب بھی لوگوں کو ہنساتا تھا—
مگر اب کبھی کبھی اپنے دل کی بات بھی کر لیتا تھا۔
کیونکہ اسے سمجھ آ گیا تھا کہ
انسان صرف خوشیاں بانٹنے کے لیے نہیں بنا،
اپنا درد بانٹنے کے لیے بھی بنا ہے۔
معنی اور غور و فکر—
👉 ہر ہنستا ہوا انسان اندر سے خوش نہیں ہوتا۔
👉 کچھ لوگ اپنی تکلیف کو مسکراہٹ کے پیچھے چھپا لیتے ہیں۔
👉 جذبات کو دبانا طاقت نہیں—انسان ہونا ہے۔
👉 کبھی کبھی لوگوں کو “تم واقعی کیسے ہو؟” پوچھنا ضروری ہوتا ہے۔
فیضان سب کو ہنساتا تھا—
مگر اسے صرف ایک انسان چاہیے تھا
جو اس کی خاموشی کو سمجھ سکے۔
— اختتام —