وقت کے پار
ریلوے اسٹیشن کی پرانی دیواروں پر وقت جیسے ٹھہر گیا تھا۔ “زری” ہمیشہ کی طرح بینچ پر بیٹھی، ہاتھ میں خط تھامے، ٹرین کے شور میں کسی مانوس آواز کی تلاش میں تھی۔
خط پر لکھا تھا — *“میں واپس آؤں گا، جب خوابوں اور حقیقت کے بیچ کی سرحد مٹ جائے گی۔”* یہ “ریحان” کا آخری جملہ تھا، جو جنگ پر جاتے وقت چھوڑ گیا تھا۔
زری نے سالوں انتظار کیا۔ ہر ٹرین کے رکنے پر اس کا دل دھڑکتا، ہر سیٹی پر ایک امید جاگتی، مگر کوئی واپس نہیں آیا۔
ایک دن، شام کے دھندلکے میں، ایک بوڑھا شخص اسٹیشن کے قریب آیا۔ اس کی آنکھوں میں وہی چمک، وہی نرمی — “زری؟” زری نے حیرت سے دیکھا، “ریحان...؟ مگر تم تو—”
وہ مسکرایا۔ “وقت بدل گیا، مگر وعدے نہیں۔ میں آیا ہوں، تاکہ وہ خط پورا کر دوں جو کبھی ختم نہیں ہوا۔”
دونوں نے بینچ پر بیٹھ کر باتیں کیں، جیسے برسوں کا فاصلہ پلکوں میں سمٹ آیا ہو۔ بارش شروع ہو گئی، ریحان نے دوپٹہ زری کے کندھے پر رکھا — “تمہیں یاد ہے، یہ میں نے پہلی بار تمہیں دیا تھا؟” زری مسکرائی، “اور تم نے کہا تھا، یہ کبھی وقت کے ساتھ ماند نہیں پڑے گا۔”
بارش رک گئی، دھند چھٹ گئی — مگر جب اسٹیشن ماسٹر آیا، بینچ خالی تھی۔ صرف وہی دوپٹہ ہوا میں لہرا رہا تھا، جیسے کسی وعدے کی خوشبو ابھی باقی ہو۔
اگلے دن اخبار میں ایک خبر چھپی — “پچاس سال پہلے لاپتہ ہونے والا سپاہی ریحان کا نام آج جنگی ہیروز کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔”
مفہوم / عکاسی:
*وقت کے پار* ایک ایسی محبت کی داستان ہے
جو جسم سے نہیں، روح سے بندھی تھی۔
یہ بتاتی ہے کہ کچھ وعدے وقت کے ختم ہونے کے بعد بھی قائم رہتے ہیں —
کیونکہ سچی محبت کبھی مر نہیں سکتی۔ 💫
— اختتام —