← تمام اردو کہانیاں

قلم کی خاموشی

ایک پرانی میز پر سیاہی کی دوات، بند ڈائری، اور جلتی ہوئی موم بتی جس کی لو تھر تھرا رہی ہے۔

رات کے آخری پہر “عاصم” کے کمرے میں صرف ایک موم بتی جل رہی تھی۔ دیواروں پر پرانی کتابوں کے شیلف، کھڑکی کے باہر ٹمٹماتی روشنی — اور میز پر ایک خالی صفحہ۔ قلم ساکت تھا، جیسے اس نے کسی ضد میں خود کو قید کر لیا ہو۔

عاصم ایک معروف ادیب تھا۔ برسوں سے اس کے الفاظ لوگوں کے دلوں کو چھو رہے تھے۔ مگر پچھلے چند مہینوں سے وہ کچھ لکھ نہیں پا رہا تھا۔ الفاظ جیسے اس سے ناراض تھے — یا شاید وہ خود سے۔

ہر رات وہ قلم اٹھاتا، مگر صفحہ خالی رہتا۔ کبھی وہ سوچتا، “کیا تخلیق ختم ہو سکتی ہے؟ یا انسان بس اپنے احساسات سے کٹ جاتا ہے؟”

ایک رات، وہ اپنے پرانے مسودوں میں کچھ ڈھونڈ رہا تھا، تب اسے ایک زرد پڑا ہوا کاغذ ملا۔ اس پر اس کے استاد “جاوید صاحب” کے ہاتھوں کا لکھا ہوا جملہ تھا: *“لکھنا لفظوں کا نہیں، درد کا ہنر ہے۔ اگر دل خاموش ہو جائے، قلم بھی سو جاتا ہے۔”*

وہ جملہ دل میں گونجا — “دل خاموش ہو جائے، قلم بھی سو جاتا ہے۔” عاصم نے آہستہ سے کہا، “شاید میں لفظ نہیں، خود کو کھو چکا ہوں۔”

اگلے دن وہ شہر کے ایک پرانے قبرستان گیا۔ وہاں، جاوید صاحب کی قبر کے پاس بیٹھ گیا۔ “استاد، میں اب لکھ نہیں پا رہا۔ آپ نے کہا تھا، لفظ درد سے جنم لیتے ہیں — مگر میرا درد تو اب پتھر بن گیا ہے۔”

خاموش ہوا چل رہی تھی، جیسے قبر کے نیچے سے کوئی ہلکی سی سرگوشی آئی ہو۔ “تو پھر اسے رُلا دو، عاصم۔ لفظوں کو پھر سے زندہ کرنے کے لیے، آنکھوں کو بارش چاہیے۔”

وہ دیر تک وہیں بیٹھا رہا۔ سورج ڈوبا، شام ہوئی، اور جب وہ لوٹا، تو اس کے اندر کچھ بدل چکا تھا۔

رات کو اس نے ڈائری کھولی۔ قلم اٹھایا۔ اور پہلی بار، بغیر سوچے، ہاتھ چلنے لگا۔ لفظوں کا بہاؤ، جیسے کسی بند دریا نے راستہ پا لیا ہو۔ وہ لکھتا گیا — اپنے خوف، اپنی محرومی، اپنی سچائی۔ اور جب موم بتی بجھی، صفحہ بھرا ہوا تھا۔

صبح جب سورج کی پہلی کرن اندر آئی، میز پر ایک مکمل داستان رکھی تھی — عنوان: *“قلم کی خاموشی”*

چند دن بعد وہی کہانی ایک مشہور ادبی جریدے میں چھپی۔ قارئین نے کہا: “یہ کہانی نہیں، کسی روح کا اعتراف ہے۔”

عاصم نے مسکرا کر آسمان کی طرف دیکھا۔ “شکریہ استاد، میں نے خود کو دوبارہ لکھ لیا۔”

مفہوم / عکاسی:
*قلم کی خاموشی* بتاتی ہے کہ تخلیق ہمیشہ احساس سے جنم لیتی ہے۔ جب انسان اپنے درد کو پہچان لے، تو لفظ خود راستہ بنا لیتے ہیں۔ کبھی کبھی، کہانی لکھنے سے نہیں — کہانی جینے سے بنتی ہے۔ 🕯️

— اختتام —