خاموش لمحوں کا شور
کمرے میں ایک عجیب سا سکوت تھا۔ صرف گھڑی کی ٹک ٹک سنائی دے رہی تھی — جیسے وقت بھی سانس روک کر کسی کا انتظار کر رہا ہو۔
**مہین** نے میز پر پڑا اَدھورا خط دیکھا۔ کچھ سطریں لکھی گئیں تھیں، مگر آخری جملہ اب بھی خالی تھا۔ شاید کچھ جذبات لفظوں سے زیادہ بھاری ہوتے ہیں۔
وہ کھڑکی کے قریب گئی۔ باہر دھوپ ہلکی سی تھی، مگر اس کے دل کے اندر جیسے سیاہی چھائی ہوئی تھی۔ اس نے خود سے آہستہ کہا، “یہ عجیب بات ہے… کبھی کبھی سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں ہوتا۔”
یادیں دھیرے دھیرے ذہن میں ابھرنے لگیں — وہ لمحے جب کسی کی باتوں میں دنیا چھپی ہوئی لگتی تھی، وہ ہنسی، وہ قہقہے، وہ غیر ارادی لمس — اور پھر وہ دن جب سب کچھ بدل گیا۔
محبت ختم نہیں ہوئی تھی، بس ایک دن دونوں نے فیصلہ کیا کہ *خاموشی بہتر ہے الفاظ سے۔* مگر وقت نے دکھایا، کہ خاموشی کبھی کبھار شور سے زیادہ چیختی ہے۔
مہین نے خود کو آئینے میں دیکھا۔ چہرے پر وقت کے نشان تھے، مگر آنکھوں میں اب بھی وہی معصوم سوال: “کیا کسی کو بھولنے کے لیے، خود کو کھونا ضروری ہے؟”
اس نے خط کا آخری جملہ مکمل کیا — “میں نے تمہیں معاف کر دیا، مگر خود کو نہیں۔” قلم رک گیا، مگر دل میں ایک بوجھ ہلکا سا اتر گیا۔
شام ہوئی تو وہ چھت پر آ گئی۔ آسمان کے نیلے کناروں پر شام کے رنگ گھل رہے تھے۔ ہوا نے اس کے بالوں کو چھوا، جیسے کوئی پرانا دوست بات کر رہا ہو۔ اس نے آنکھیں بند کر کے مسکرا دیا۔ اب وہ سمجھ چکی تھی — کچھ دکھ ختم نہیں ہوتے، بس ان کے ساتھ جینا سیکھنا پڑتا ہے۔
مفہوم / عکاسی:
*خاموش لمحوں کا شور* ان احساسات کی داستان ہے
جو دل میں رہ کر ہمیں انسان بناتے ہیں۔
ہر دکھ سزا نہیں ہوتا، کچھ زخم روشنی سکھاتے ہیں۔
زندگی دراصل وہی لمحہ ہے
جب ہم درد کے ساتھ مسکرانا سیکھ جاتے ہیں۔ 🌤️
— اختتام —