← تمام اردو کہانیاں

خوابوں کا موسم

بارش میں بھیگی ایک پرانی چھت، لکڑی کی کرسی پر دو کپ چائے، اور بادلوں کے بیچ ہلکی دھوپ۔

لاہور کی شام تھی — بادلوں کے بیچ سورج جیسے چوری چھپے جھانک رہا تھا۔ **علی** اور **حنا** چھت پر بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ بارش ہونے والی تھی، مگر دونوں خاموش تھے۔

“کیا تمہیں کبھی ڈر لگتا ہے؟” حنا نے آہستہ پوچھا۔ علی نے مسکرا کر کہا، “تمہارے جانے کا؟ ہمیشہ۔”

حنا نے نظریں چرا لیں۔ وہ جانتی تھی، یہ محبت لفظوں سے زیادہ خاموشیوں میں تھی۔ علی کے پاس بہت خواب تھے، اور حنا کے پاس صرف وقت — جو کبھی کسی کے لیے رُکتا نہیں۔

وہ دونوں اکثر باتوں میں کھو جاتے، کبھی ماضی میں، کبھی مستقبل کے خوابوں میں۔ مگر حال، ہمیشہ ان کے بیچ خاموش رہتا۔

اچانک بارش شروع ہوئی۔ حنا نے ہنستے ہوئے چائے کا کپ آسمان کی طرف اٹھایا، “یہ لمحہ یاد رکھنا، شاید کل نہ ہو۔” علی نے کہا، “اگر کل نہ ہوا تو یہی لمحہ زندگی ہوگا۔”

بارش تیز ہو گئی۔ حنا نے آنکھیں بند کر لیں، بوندیں اس کے چہرے پر موتیوں کی طرح چمکنے لگیں۔ علی نے آہستہ کہا، “تم بارش جیسی ہو — جب آتی ہو تو سب کچھ دھو ڈالتی ہو، مگر جاتے ہوئے خوشبو چھوڑ جاتی ہو۔”

کچھ لمحوں بعد، وہ دونوں ہنسنے لگے، جیسے دنیا میں اور کچھ باقی ہی نہ رہا ہو۔ مگر دل کے اندر کہیں ایک خوف چھپا تھا — کہ یہ لمحہ شاید آخری ہو۔

وقت گزرا، علی پردیس چلا گیا، حنا وہیں چھت پر رہ گئی۔ سالوں بعد بھی جب بارش ہوتی، وہ دو کپ چائے بناتی، اور ایک کرسی خالی چھوڑ دیتی۔

ایک دن ہوا کے جھونکے نے پرانی چادر اُڑائی، اور ایک خط میز سے نیچے گرا۔ اس پر لکھا تھا: “میں آج بھی وہی لمحہ جی رہا ہوں — جب تم نے کہا تھا ‘شاید کل نہ ہو۔’”

حنا نے خط سینے سے لگا لیا۔ باہر بارش ہو رہی تھی، مگر دل میں سکون اتر آیا تھا۔ کچھ محبتیں ختم نہیں ہوتیں — وہ بس ایک لمحے میں ٹھہر جاتی ہیں، ہمیشہ کے لیے۔

مفہوم / عکاسی:
*خوابوں کا موسم* اس احساس کا نام ہے جب محبت وقت سے آزاد ہو جاتی ہے۔ یہ سکھاتی ہے کہ کچھ لمحات، پوری زندگی سے زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔ محبت ہمیشہ ختم نہیں ہوتی — کبھی کبھی وہ بس بارش بن کر لوٹ آتی ہے۔ 🌧️💞

— اختتام —