لفظوں کا قیدی
شہر کے ایک خاموش کونے میں ایک پرانا کمرہ تھا، جہاں صرف قلم چلنے کی آواز سنائی دیتی تھی۔ وہاں ارسلان میر رہتا تھا — ایک ایسا ادیب جس نے دنیا سے رشتہ توڑ کر لفظوں سے رشتہ جوڑ لیا تھا۔
اس کی میز پر ڈھیروں کاغذ بکھرے رہتے، کچھ پر ادھوری تحریریں، کچھ پر مٹے ہوئے خواب۔ وہ لکھتا جاتا تھا، جیسے ہر لفظ اس کے زخموں کا مرہم ہو۔
ایک رات جب بجلی گئی، وہ چراغ کی مدھم روشنی میں بیٹھا تھا۔ اچانک ہوا کا جھونکا آیا اور ایک صفحہ زمین پر گرا۔ اس صفحے پر لکھا تھا — *“میں تمہارے لفظوں میں قید ہوں، مجھے آزاد کرو، ورنہ تم بھی میرے جیسے ہو جاؤ گے۔”*
ارسلان چونک گیا۔ یہ تحریر اس نے نہیں لکھی تھی، مگر وہ اسی کی ہینڈ رائٹنگ میں تھی۔ اس نے فوراً قلم اٹھایا اور جواب دیا: “تم کون ہو؟”
اگلی رات، اسی صفحے پر نیا جملہ نمودار ہوا: *“میں تمہارے تخیل کا کردار ہوں، جسے تم نے محبت دی مگر انجام نہیں۔”*
ارسلان کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اسے یاد آیا، وہ پچھلے سال ایک کہانی لکھ رہا تھا “روشنی کا شہر” — مگر درمیان میں ادھوری چھوڑ دی تھی۔ شاید اس کا مرکزی کردار — “زارا” — اب انہی لفظوں کے درمیان بھٹک رہی تھی۔
اگلے دن اس نے فیصلہ کیا کہ وہ وہی کہانی مکمل کرے گا۔ اس نے قلم اٹھایا، اور لکھنے لگا: “زارا روشنی میں چلتی ہوئی سورج کے قریب پہنچی…” مگر جیسے ہی وہ لکھتا گیا، چراغ کی لو تیز ہونے لگی، ہوا میں سرگوشیاں سنائی دینے لگیں، اور کمرے میں خوشبو پھیل گئی۔
جب اس نے آخری جملہ لکھا — “زارا آزاد ہو گئی” — تو چراغ بجھ گیا۔ اگلی صبح جب دوست ارسلان کے کمرے میں داخل ہوئے، تو وہ کاغذوں کے درمیان بے جان پڑا تھا، مگر چہرے پر ایک عجب سکون تھا۔
میز پر رکھا آخری صفحہ کہہ رہا تھا: *“میں آزاد ہو گیا، کیونکہ میں نے کسی اور کو آزاد کیا۔”*
مفہوم / عکاسی:
"لفظوں کا قیدی" ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ
لکھنے والا اپنے لفظوں میں زندہ رہتا ہے،
اور کبھی کبھی وہ اپنی کہانیوں میں اتنا کھو جاتا ہے
کہ خود کہانی بن جاتا ہے۔
تخلیق، دراصل آزادی کی ایک قیمت ہے —
جو ہر لکھاری کبھی نہ کبھی ادا کرتا ہے۔
— اختتام —