چاندنی کا وعدہ
وادیٔ سوات کی جھیل کنارے چاندنی پھیل رہی تھی۔ جھیل کے پانی میں چاند کا عکس یوں جھلک رہا تھا جیسے کسی نے محبت کو شیشے میں قید کر دیا ہو۔ وہاں بیٹھے تھے ایمن اور ریحان — دو ایسے دل جو لفظوں سے نہیں، نگاہوں سے بات کرتے تھے۔
ریحان نے کہا، “اگر کبھی ہم بچھڑ گئے تو؟” ایمن نے مسکراتے ہوئے جھیل کی طرف دیکھا، “تو چاندنی ہمارا وعدہ بن جائے گی۔ جب تم اسے دیکھو گے، سمجھ لینا میں تمہارے پاس ہوں۔”
ریحان ہنسا، “تم شاعروں جیسی باتیں کرتی ہو۔” ایمن بولی، “شاعر نہیں ہوں، مگر دل کبھی کبھی شعر کہہ دیتا ہے۔”
وہ لمحہ جیسے وقت کی گرفت میں رک گیا۔ چاندنی، پانی، اور دو روحیں — ایک خاموش عہد میں بندھ گئیں۔
مگر زندگی کہانی نہیں ہوتی۔ اگلی صبح ریحان کو خبر ملی کہ اسے بیرونِ ملک نوکری کے لیے جانا ہوگا۔ ایمن نے صرف اتنا کہا، “جاؤ، مگر وعدہ کرو — جب چاندنی اترے، تم ایک لمحے کو میری طرف دیکھو گے۔” ریحان نے وعدہ کیا۔
سال گزرتے گئے۔ ریحان نے دنیا دیکھی، شہرت پائی، مگر ہر رات چاندنی میں ایک خاموش خلش جاگتی۔ وہ سوچتا — “کیا ایمن اب بھی جھیل کے کنارے آتی ہوگی؟”
ایک رات وہ واپس لوٹا۔ وہی جھیل، وہی ہوا، مگر کوئی نہیں تھا۔ صرف جھیل کے پانی پر چاندنی تیر رہی تھی۔ اچانک ایک سفید دوپٹہ پانی پر بہتا ہوا نظر آیا — جیسے کسی نے خاموش الوداع کہا ہو۔
ریحان نے دوپٹہ تھاما۔ وہ بھیگ گیا، مگر اس پر خوشبو وہی تھی — ایمن کی۔ وہ زمین پر بیٹھ گیا، آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ تب ایک بوڑھی عورت قریب آئی اور بولی، “بیٹا، وہ لڑکی جو یہاں بیٹھا کرتی تھی… وہ اب چاندنی میں رہتی ہے۔ کہتی تھی، جب وہ آئے گا، تو اسے میرا وعدہ سنا دینا — میں گئی نہیں، بس روشنی بن گئی ہوں۔”
ریحان نے آسمان کی طرف دیکھا۔ چاند ایک دم روشن ہو گیا۔ ہوا میں ایمن کی ہنسی گونج اٹھی — اور جھیل کے پانی پر دو عکس نمودار ہوئے، جیسے وقت نے خود ان کے وعدے کو امر کر دیا ہو۔
اس کے بعد ریحان ہر رات چاندنی میں بیٹھتا، خاموشی سے بات کرتا — “میں جانتا ہوں، تم یہی ہو۔ تم نے کہا تھا، چاندنی ہمارا وعدہ ہوگی… اور واقعی، یہ روشنی کبھی مدھم نہیں پڑی۔”
مفہوم / عکاسی:
“چاندنی کا وعدہ” ایک ایسی محبت کی کہانی ہے
جو وقت، موت، اور فاصلوں سے بھی بلند ہے۔
یہ بتاتی ہے کہ سچی محبت کبھی ختم نہیں ہوتی —
وہ شکل بدل لیتی ہے، مگر احساس نہیں۔
کبھی چاند بن کر، کبھی ہوا بن کر،
وہ وعدہ نبھاتی رہتی ہے… ہمیشہ۔ 🌙
— اختتام —