← تمام اردو کہانیاں

آئینے کے پار

ایک کمرے میں رکھا پرانا آئینہ، جس میں کسی کا عکس صاف دکھائی دے رہا ہے — مگر کمرے میں کوئی موجود نہیں۔

میں نے پہلی بار اس آئینے کو بچپن میں دیکھا تھا — نانی کے گھر کے اُس پرانے کمرے میں، جہاں دیواروں پر وقت ٹنگا تھا۔ آئینے کا فریم زنگ آلود، مگر عکس ہمیشہ صاف۔ عجیب بات تھی — جتنا قریب جاتا، عکس تھوڑا مسکرا دیتا۔

برسوں بعد جب نانی کا گھر خالی ہو گیا، میں واپس آیا — شاید خود کو دیکھنے کے لیے۔ کمرہ وہی تھا، مگر ہوا میں خاموشی کی بو تھی۔ آئینے کے سامنے کھڑا ہوا تو دل دہل گیا — عکس میرا تھا، مگر آنکھیں کسی اور کی۔

میں نے ہولے سے پوچھا، “تم کون ہو؟” عکس نے جواب نہیں دیا، مگر مسکرایا — وہی مسکراہٹ جو کبھی میرے والد کی تصویر میں دیکھی تھی۔ ایک لمحے کو لگا، جیسے آئینہ ماضی کا دروازہ ہے، اور میں اُس کے پار کھڑا، اپنے ہی سوالوں کا جواب بن گیا ہوں۔

رات گہری ہوئی تو آئینے سے سرگوشی آئی: “ہر چہرہ جو تم دیکھتے ہو، وقت کی ایک پرت ہے۔ تم وہ نہیں جو سامنے کھڑا ہے، تم وہ ہو جو پیچھے رہ گیا۔” میں پیچھے ہٹا — مگر عکس نے قدم نہیں ہٹایا۔ اب وہ خود اپنی مرضی سے ہل رہا تھا، جیسے آزاد ہو گیا ہو۔

اگلی صبح جب لوگ آئے، کمرہ خالی تھا۔ صرف آئینہ رہ گیا، اور اُس پر ایک دھندلا سا نشان — جیسے کسی نے اندر سے ہاتھ رکھا ہو۔ کسی نے کہا، “یہ آئینہ عجیب ہے، جو دیکھتا ہے، وہ خود غائب ہو جاتا ہے۔” میں کہوں تو کیسے کہوں — میں وہی ہوں، جو آئینے کے پار چلا گیا۔

مفہوم / عکاسی:
“آئینے کے پار” یہ بتاتا ہے کہ انسان ہمیشہ دو دنیاؤں میں جیتا ہے — ایک جو سب دیکھتے ہیں، اور ایک جو صرف وہ جانتا ہے۔ کبھی کبھی، اپنی حقیقت دیکھنے کے لیے ہمیں آئینے کے اُس پار جانا پڑتا ہے۔

— اختتام —