راستوں کے پار
صبح کا وقت تھا، اور فضا میں برف پگھلنے کی خوشبو گھلی ہوئی تھی۔ پہاڑوں کی چوٹیوں پر دھند تیر رہی تھی، جیسے آسمان خود زمین کے قریب آ گیا ہو۔ میں نے بیگ کندھے پر رکھا اور وہ راستہ اختیار کیا جس کے بارے میں کسی نے کہا تھا: “یہ کہیں نہیں جاتا، مگر سب کچھ دکھا دیتا ہے۔”
رستہ پتھریلا تھا، مگر ہر موڑ پر منظر بدلتا۔ کہیں ندی چمکتی، کہیں درخت جھومتے، کہیں صرف خاموشی ساتھ چلتی۔ میں نے محسوس کیا — سفر کسی ساتھی کا محتاج نہیں، بس ایک سوال کا جواب چاہیے: "میں کہاں جا رہا ہوں؟"
دوپہر ڈھلی تو میں ایک چھوٹے گاؤں پہنچا۔ وہاں ایک بوڑھا آدمی دروازے پر بیٹھا بانسری بجا رہا تھا۔ میں نے پوچھا، “یہ دُھن کس کی ہے؟” اس نے مسکرا کر کہا، “اُس راستے کی، جو دل کے اندر جاتا ہے۔ باہر کے راستے تو سب وہم ہیں۔”
میں آگے بڑھا۔ شام کے وقت سورج پہاڑوں کے پیچھے اترنے لگا۔ آسمان نارنجی ہو گیا، اور میں نے پہلی بار محسوس کیا — شاید منزل وہ نہیں جو کہیں دور ہے، بلکہ وہ لمحہ ہے جب دل خاموش ہو جائے۔
جب رات گہری ہوئی، میں نے خیمہ لگایا۔ اوپر تارے تھے، نیچے زمین۔ میں نے آسمان کو دیکھا اور دھیرے سے کہا، “میں منزل تک نہیں پہنچا… مگر شاید منزل مجھ تک آ گئی ہے۔” ہوا نے جیسے جواب دیا — نرم، خاموش، مطمئن۔
مفہوم / عکاسی:
“راستوں کے پار” یہ بتاتی ہے کہ سفر صرف فاصلوں کا نہیں ہوتا —
یہ خود کو تلاش کرنے کا عمل ہے۔
بعض راستے کہیں نہیں لے جاتے، مگر ہمیں ہم تک پہنچا دیتے ہیں۔
— اختتام —