ریت میں نام
دوپہر کا سورج تیز تھا۔ ریت کے ذروں میں روشنی ایسے چمک رہی تھی جیسے ہزاروں چھوٹے آئینے۔ میں ہاتھ میں نوٹ بک لیے اس ویران علاقے میں چل رہا تھا — وہ جگہ جہاں کبھی جنگ ہوئی تھی، جہاں وقت رک گیا تھا۔
مقامی لوگوں نے بتایا تھا، “یہ میدان کچھ یادیں نہیں چھوڑتا صاحب، سب نگل لیتا ہے۔” مگر میں مؤرخ تھا — یادوں کا تعاقب میرا کام تھا۔ میں نے پرانی کھائی کے قریب پہنچ کر جھک کر دیکھا۔ ریت میں آدھا دفن ایک لوہے کا ہیلمٹ، اور اس کے ساتھ ایک مڑھا ہوا خط۔ میں نے اسے آہستہ سے کھولا۔
خط پر لکھا تھا: “اگر یہ خط تم تک پہنچے، تو سمجھنا میں واپس نہیں آیا۔ مگر میرا نام زمین پر ضرور رہے گا۔ کیونکہ میں لڑ رہا ہوں اس دن کے لیے جب سب محفوظ ہوں گے — یہاں تک کہ تم۔” نیچے دستخط تھا: *سلیم۔*
ہوا کا ایک جھونکا آیا، ریت اڑ کر خط پر پھیل گئی۔ میں نے انگلی سے نام صاف کیا، مگر اگلے ہی لمحے وہ پھر ڈھک گیا۔ جیسے زمین خود اسے اپنے اندر رکھنا چاہتی ہو۔ میں نے محسوس کیا — تاریخ کبھی مکمل نہیں ہوتی، وہ سانس لیتی ہے، مٹی کے نیچے۔
واپس جاتے ہوئے میں نے دیکھا، سورج کی روشنی میں وہی جگہ سنہری لگ رہی تھی، جیسے کسی عظیم قربانی کی چمک ہو۔ میں نے دل میں کہا، “سلیم، تم بھلے مٹ گئے، مگر تمہارا نام ریت میں نہیں — وقت میں لکھا گیا ہے۔”
مفہوم / عکاسی:
“ریت میں نام” ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تاریخ صرف بادشاہوں یا جنگوں کی نہیں —
یہ ان لوگوں کی بھی ہے جن کے نام ریت پر لکھے گئے، مگر مٹائے نہیں جا سکے۔
ہر مٹی کے ذرّے میں ایک کہانی ہے، جو اب بھی سنائی جا سکتی ہے — اگر ہم سننا چاہیں۔
— اختتام —