آخری جملہ
میز پر رکھا کاغذ خالی تھا۔ قلم دوات میں ڈوبا، مگر ہاتھ نہیں چلا۔ میں گھنٹوں بیٹھا رہا — جیسے کوئی لفظ خود بخود جنم لے لے، مگر خاموشی نے صفحے کو اپنی مہر لگا دی۔
باہر شام اتر رہی تھی۔ سورج کھڑکی کے کنارے پر تھما ہوا، جیسے الوداع کہنا چاہتا ہو۔ میں نے سانس بھری — پانچ سال ہو گئے اس ناول کو ختم کیے بغیر۔ ہر بار جب آخری جملہ لکھنے بیٹھتا ہوں، لگتا ہے کہانی ختم نہیں، میں ختم ہو جاؤں گا۔
میں نے ایک سطر لکھی: “وہ پلٹا، مگر کمرے میں کوئی نہیں تھا—” پھر رک گیا۔ کمرے میں واقعی کوئی نہیں تھا۔ صرف میں، اور وہ خالی کرسی جو کبھی اُس کی تھی — میری کہانی کی عورت، جو صرف لفظوں میں زندہ تھی۔
کاغذ پر ہاتھ رکھا، جیسے کسی دھڑکتے ہوئے دل پر۔ اچانک ہوا کا جھونکا آیا، دوات الٹ گئی، سیاہی پھیل گئی۔ میں نے دیکھا — وہ سیاہی جیسے خود بہہ کر جملہ مکمل کر رہی ہو۔ “— کیونکہ وہ خود لکھنے والے کے اندر چلی گئی تھی۔”
میرے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔ شاید کہانیاں ختم نہیں ہوتیں — وہ بس اپنے لکھنے والے کو سمیٹ لیتی ہیں۔ میں نے قلم رکھ دیا۔ صفحہ خشک ہو چکا تھا، مگر کمرہ نہیں — دیواروں پر لفظوں کی خوشبو تیر رہی تھی۔
مفہوم / عکاسی:
“آخری جملہ” یہ بتاتا ہے کہ ادب صرف الفاظ کا کھیل نہیں —
یہ وہ لمحہ ہے جب تحریر اور تحریر کرنے والا ایک دوسرے میں گم ہو جاتے ہیں۔
کبھی کبھی لکھنے والا کہانی مکمل نہیں کرتا — کہانی خود لکھنے والے کو مکمل کر دیتی ہے۔
— اختتام —