← تمام اردو کہانیاں

وقت کا کپ

ایک پرانی لکڑی کی میز پر رکھا ہوا چائے کا کپ، جس سے بھاپ اوپر اٹھ رہی ہے، اور پیچھے دھندلا سا سورج طلوع ہو رہا ہے۔

صبح کے سات بجے تھے۔ باورچی خانے میں دھوپ کا ایک ٹکڑا داخل ہو کر چولہے کے پاس ٹھہر گیا تھا۔ میں نے چائے رکھی، کپ نکالا، اور محسوس کیا — جیسے ہر دن اسی منظر سے شروع ہوتا ہے، مگر کچھ نہ کچھ بدل جاتا ہے۔

میز پر اخبار پڑا تھا، مگر میں نے اسے کھولا نہیں۔ شاید اس لیے کہ خبریں بدلتی ہیں، احساسات نہیں۔ چائے کا پہلا گھونٹ ہمیشہ ماضی کی طرح گرم ہوتا ہے — تھوڑا میٹھا، تھوڑا جلاتا ہوا۔

یاد آیا، کبھی یہی جگہ ہنسی سے بھری ہوتی تھی۔ امی کی آواز، ابا کی باتیں، بہن کی ضد — اب صرف برتنوں کی ہلکی سی آواز رہ گئی ہے۔ وقت نے سب کو کہیں نہ کہیں بھیج دیا، اور مجھے یہاں چھوڑ دیا، جیسے کسی پرانی فلم کا آخری فریم۔

چائے ٹھنڈی ہو گئی۔ میں نے کپ اٹھا کر دیکھا — نیچے ایک چھوٹا سا دائرہ بن گیا تھا، جیسے وقت کا نشان، جو ہر دن دہرایا جاتا ہے۔ میں نے خود سے کہا، “زندگی شاید یہی ہے — گرم چائے، ٹھنڈی یادیں، اور خاموش کمرہ۔”

دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔ پڑوسی بچہ تھا، اسکول جاتے ہوئے مسکرا کر بولا، “خالہ، گڈ مارننگ!” میں مسکرا دی — وہی دو لفظ، مگر جیسے کسی نے اندر روشنی جلا دی ہو۔ شاید زندگی ختم نہیں ہوئی، بس تھوڑی دیر کو چائے پینے گئی ہے۔

مفہوم / عکاسی:
“وقت کا کپ” ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ زندگی چھوٹی چھوٹی باتوں میں زندہ رہتی ہے — کسی کی مسکراہٹ، کسی سلام، یا کسی چائے کے گھونٹ میں۔ وقت گزرتا نہیں، بس بدلتا ہوا ہمارے اندر ٹھہر جاتا ہے۔

— اختتام —