روشنی کا سایہ
وہ مکان شہر کے کنارے پر تھا — سنّاٹا، جھاڑیاں، اور دیواروں پر ماضی کے نشان۔
احمد فوٹوگرافر تھا، نایاب جگہوں کی تصویریں لیتا۔
مگر اس دن وہ "روشنی" کی تلاش میں نہیں آیا تھا — وہ اپنے اندر کے اندھیرے سے بھاگنے آیا تھا۔
اس نے پرانا بلب جلایا۔ زرد روشنی لرزتی ہوئی کمرے میں پھیل گئی۔ دیوار پر ایک سایہ ابھرا — مگر وہ سایہ اس کا نہیں تھا۔ احمد ٹھٹھک گیا۔ بلب کے نیچے کھڑا تھا، مگر سایہ دور دیوار پر حرکت کر رہا تھا، جیسے کسی اور کے قدم ہوں۔
کیمرہ اٹھایا، لینس ایڈجسٹ کیا، اور شٹر دبایا۔ فلیش چمکا — ایک لمحے کے لیے سب روشن ہو گیا۔ جب اس نے تصویر دیکھی، دل دھڑکنا بھول گیا۔ فریم میں وہ خود کھڑا تھا… اور اس کے پیچھے ایک عورت کا دھندلا سا چہرہ — آنکھیں بند، مگر چہرہ سیدھا کیمرے کی طرف۔
احمد نے پلٹ کر دیکھا — وہاں کوئی نہیں تھا۔ مگر بلب اب ہلکے سے جھولنے لگا۔ ہوا نہیں تھی۔ ایک لمحے کو لگا جیسے کوئی سانس لے رہا ہو، قریب، بہت قریب۔
اس نے گھر سے بھاگنے کی کوشش کی مگر دروازہ اندر سے بند تھا۔ کمرے میں وہی سایہ اب بڑھنے لگا، دیوار سے فرش پر، فرش سے اس کے پاؤں تک۔ وہ پیچھے ہٹا، مگر سایہ جیسے سانس لیتا ہوا اس کے ساتھ چل رہا تھا۔ اچانک بلب بجھ گیا — اور اندھیرے میں صرف ایک آواز گونجی: “تم نے مجھے قید کر لیا، اب تمہیں آزاد کون کرے گا؟”
صبح جب اہلِ محلہ نے مکان کا دروازہ کھولا، تو کمرہ خالی تھا۔ صرف کیمرہ زمین پر پڑا تھا — اور اس میں تازہ تصویر تھی: دیوار پر دو سائے، ایک مرد کا، ایک عورت کا — دونوں روشنی کے بغیر۔
مفہوم / عکاسی:
“روشنی کا سایہ” یہ یاد دلاتا ہے کہ ہر روشنی اپنے ساتھ ایک سایہ رکھتی ہے —
اور بعض اوقات، ہم جس سچ کو قید کرنے نکلتے ہیں، وہی ہمیں قید کر لیتا ہے۔
— اختتام —