آخری منظر
تھیٹر کی خوشبو ہمیشہ وہی رہتی ہے —
پسینے، پرفیوم اور خوابوں کا آمیزہ۔
آج برسوں بعد میں پھر اسی اسٹیج پر کھڑی تھی جہاں میں نے پہلی بار تالیوں کی آواز سنی تھی۔
مگر آج تماشائی نہیں تھے — صرف میں، اور میرا سایہ۔
پردے کے پیچھے ایک کرسی رکھی تھی، وہی پرانی، جس پر میں ہر سین کے بعد بیٹھا کرتی تھی۔
میں نے ہاتھ پھیر کر دیکھا — لکڑی ٹھنڈی تھی، مگر یادیں گرم۔
“آخری منظر” — یہی نام تھا اس پلے کا، جسے میں نے خود لکھا تھا۔
عجیب بات ہے، کردار بھی میں، کہانی بھی میری۔
میں نے روشنی میں قدم رکھا۔
ہال خالی تھا، مگر کہیں دور مجھے تالیوں کی گونج سنائی دی۔
دل میں ایک لمحے کو خواہش جاگی کہ سب کچھ پھر سے ہو جائے — وہ ہجوم، وہ ڈائیلاگ، وہ جھوٹ جو حقیقت لگتا تھا۔
مگر وقت کا اسٹیج دوبارہ نہیں سجتا۔
میں نے مکالمہ شروع کیا، مگر زبان لرز گئی۔ لفظوں کی بجائے آنسو بہہ نکلے۔ میں نے پہلی بار سچ بولا — “میں نے جتنا ادا کیا، اتنا ہی کھویا۔” روشنی تھوڑی مدھم ہوئی، جیسے خود سن رہی ہو۔
منظر ختم ہوا۔
میں نے جھک کر سلام کیا — اپنے لیے، اپنی گمشدہ جوانی کے لیے، اپنی حقیقت کے لیے۔
جب میں واپس جانے لگی، پردے کے پار ایک ہلکی سی تالی گونجی۔
میں رکی، مسکرائی۔
شاید زندگی بھی کبھی کبھی داد دیتی ہے، دیر سے سہی۔
مفہوم / عکاسی:
“آخری منظر” ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ زندگی خود ایک اسٹیج ہے —
جہاں سچ بولنا سب سے مشکل مکالمہ ہوتا ہے، مگر سب سے خوبصورت بھی۔
— اختتام —