← تمام اردو کہانیاں

نہ کہا ہوا جملہ

بارش کے بعد ایک کھڑکی پر ٹھہرے پانی کے قطرے، جن میں شام کا آسمان دھندلا سا جھلک رہا ہو۔

کھڑکی کے پار بارش ہو رہی تھی۔

بوندیں شیشے پر ٹپکتی رہیں — ایک، دو، پھر درجنوں۔
ہر قطرہ جیسے کوئی بات کہنا چاہتا ہو، مگر رک جائے، جیسے میں۔

وہ میرے سامنے بیٹھا تھا، خاموش۔
دونوں کے درمیان میز پر ایک کپ چائے تھا جو ٹھنڈی ہو چکی تھی۔
اتنی باتیں تھیں جو کہی جا سکتی تھیں — مگر ہم نے خاموشی چن لی۔
شاید کیونکہ کچھ احساسات لفظوں میں آنے سے ٹوٹ جاتے ہیں۔

اس نے آہستہ سے کہا، “تم خوش ہو نا؟”
میں نے سر ہلایا، جھوٹ بولنے جتنا ہلکا سا۔
وہ مسکرا دیا، وہی پرانی مسکراہٹ — تھوڑی سی ادھوری، تھوڑی سی ماضی جیسی۔
بارش تھم گئی تھی، مگر اندر کچھ اب بھی برستا رہا۔

میں چاہتی تھی کہ کہوں، “رکو۔”
مگر لفظ ہونٹوں تک آ کر چپ ہو گئے۔
وہ اٹھا، بٹن لگایا، اور دروازے تک گیا۔
پیچھے مڑ کر صرف ایک نظر ڈالی — جیسے آخری جملہ کہہ گیا ہو، بغیر بولے۔

اس کے جانے کے بعد میں نے کھڑکی پر ہاتھ رکھا۔
شیشے پر میری انگلی کے نشان رہ گئے، جیسے یاد کے سائے۔
باہر آسمان صاف ہو چکا تھا، مگر میرے اندر ابھی بھی بارش تھی۔

مفہوم / عکاسی:
"نہ کہا ہوا جملہ" ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ ہر خاموشی خالی نہیں ہوتی — کچھ خاموشیاں لفظوں سے زیادہ بولتی ہیں، اور کچھ جدائیاں کبھی ختم نہیں ہوتیں، صرف ٹھہر جاتی ہیں۔

— اختتام —