دریا کے کنارے خاموشی پھیلی ہوئی تھی۔
پانی ٹھہرا نہیں تھا، مگر بہاؤ میں کوئی جلدی نہیں تھی۔
جیسے ہر لہر اپنی ہی سانس گن رہی ہو۔
میں نے جوتے اتارے اور گیلی ریت پر قدم رکھا — نرم، ٹھنڈی، اور حیرت انگیز طور پر مانوس۔
کہتے ہیں یہ دریا بولتا نہیں، مگر سنتا ہے۔
میں نے دل ہی دل میں کہا، “کیا تم نے مجھے بھولا؟”
ہوا نے سرسراہٹ کی، جیسے جواب دیا ہو۔
پانی نے میرے پیروں کو چھوا، جیسے کوئی پرانی بات یاد دلا رہا ہو۔
میں وہیں بیٹھ گئی، اور دریا کی طرف دیکھتی رہی۔
ایک پتھر پر نام کھدا تھا — “فراز”۔
یاد آیا، وہ یہی کہتا تھا، “پانی سب جانتا ہے، بس بولتا کم ہے۔”
شاید وہ ابھی بھی یہیں کہیں ہو، ان لہروں کے درمیان، کسی آواز کے بغیر۔
شام ڈھلنے لگی۔
آسمان نے دریا پر سرخی انڈیل دی۔
میں نے ہاتھ پانی میں ڈالا — سرد، مگر نرم۔
اس لمحے میں نے محسوس کیا، دریا بول نہیں رہا تھا، وہ مجھے دلاسا دے رہا تھا۔
جب واپس مڑنے لگی، تو میں نے آخری بار پیچھے دیکھا۔
پانی کے بہاؤ میں ہلکی سی چمک تھی، جیسے کسی نے مسکرا کر الوداع کہا ہو۔
میں نے سر جھکا کر جواب دیا — اور چل دی۔
مفہوم / عکاسی:
خاموش دریا ہمیں سکھاتا ہے کہ سکون بولنے میں نہیں، سننے میں چھپا ہے۔
کبھی کبھار زندگی کا سب سے گہرا جواب وہ لمحہ دیتا ہے جب ہم صرف خاموش رہتے ہیں۔
— اختتام —