پریشان استاد
گرمیوں کی دوپہر تھی۔ کلاس میں پنکھا زور زور سے چل رہا تھا، اور استاد جاوید صاحب اردو پڑھا رہے تھے۔ ان کے سامنے بیٹھا تھا فیضان، جو ہمیشہ مسکراتا رہتا تھا — چاہے استاد ناراض ہوں یا سوال ہو جائے مشکل۔
جاوید صاحب نے بورڈ پر جملہ لکھا: “میں اسکول آتا ہوں۔” پھر مسکرا کر بولے، “بتاؤ بچوں! اگر کل نہ آؤ تو جملہ کیسے بدلے گا؟”
پوری کلاس چپ۔ فیضان نے فوراً ہاتھ اٹھایا: “سر، میں جانتا ہوں!” جاوید صاحب خوش ہوئے، “شاباش بیٹا، بتاؤ۔”
فیضان نے اطمینان سے کہا، “سر، اگر کل نہ آؤں تو جملہ ایسے ہو جائے گا — ‘میں اسکول نہیں آتا، مگر خوابوں میں پھر بھی امتحان دیتا ہوں!’”
کلاس میں قہقہے گونج گئے۔ جاوید صاحب نے آنکھوں پر ہاتھ رکھا، “فیضان! تمہیں تو شاعر بن جانا چاہیے تھا، یہ اردو تمہارے لیے کم ہے۔” فیضان نے مسکرا کر جواب دیا، “سر، شاعری بھی وہی ہے جس میں استاد پریشان ہو جائیں۔”
اگلے دن جاوید صاحب نے بورڈ پر لکھا: “فیضان آج غیر حاضر ہے۔” پوری کلاس نے تالی بجا کر کہا، “مگر خوابوں میں پھر بھی امتحان دے رہا ہے!” 😂
مفہوم / عکاسی:
“پریشان استاد” ایک ہلکی پھلکی لطیفہ کہانی ہے، جو بچوں کی معصوم ذہانت اور اسکول کے ماحول کے مزاح کو ظاہر کرتی ہے۔ کبھی کبھی سادگی میں ہی سب سے زیادہ عقل چھپی ہوتی ہے — اور ہنسی، تعلیم کا سب سے خوشگوار لمحہ بن جاتی ہے۔ 🎒
— اختتام —