← تمام اردو کہانیاں

خزاں کی خوشبو

ایک پرانی لکڑی کی بینچ، خزاں کے زرد پتے،
اور ہوا میں گھلتی کسی کے عطر کی آخری خوشبو۔

شہر کے باغ میں خزاں اُتر چکی تھی۔ درختوں کے پتے زرد، ہوا میں خنکی، اور شام کی روشنی جیسے یادوں کا رنگ بن گئی ہو۔ بینچ پر **ایمان** بیٹھی تھی — وہی بینچ، جہاں کبھی **ریحان** کے ساتھ چائے پی تھی۔

ریحان اب نہیں آتا تھا۔ کہا تھا، "میں جلد لوٹوں گا، ایمان، جیسے بہار خزاں کے بعد آتی ہے۔" مگر خزاں کے کئی موسم گزر گئے، اور بہار کبھی نہ آئی۔

ایمان ہر ہفتے اسی جگہ آتی، چائے منگواتی، اور دو کپ رکھتی۔ ایک اپنے لیے، ایک اُس کے لیے۔ پھر چپ چاپ پتے گرتے دیکھتی رہتی۔

ایک دن پاس بیٹھے بوڑھے مالی نے پوچھا، "بیٹی، وہ دوسرا کپ کون پیتا ہے؟" ایمان نے ہلکی مسکراہٹ سے کہا، "خوشبو۔" بوڑھا حیران ہوا، "کون سی خوشبو؟"

ایمان نے آنکھیں بند کر لیں۔ "ریحان کی… وہ کہتا تھا محبت کبھی ختم نہیں ہوتی، بس خوشبو بن کر ہوا میں گھل جاتی ہے۔"

اچانک ہوا کا ایک جھونکا آیا۔ ایمان کے کپ سے چائے کی بھاپ اڑنے لگی، اور ساتھ ہی عطر کی وہی خوشبو — جو برسوں پہلے ریحان لگایا کرتا تھا۔

ایمان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی۔ "تم آئے ہو نا؟" ہوا نے جواب دیا — "میں کبھی گیا ہی کب تھا۔"

اگلے دن باغ میں وہ بینچ خالی تھی۔ بس چائے کے دو کپ رکھے تھے، اور ان کے بیچ ایک زرد پتہ — جس پر لکھا تھا: "محبت کبھی نہیں مرتی، وہ صرف موسم بدل لیتی ہے۔"

مفہوم / عکاسی:
“خزاں کی خوشبو” اس احساس کی کہانی ہے کہ محبت کسی انجام کی محتاج نہیں۔ وہ ملاقات میں نہیں، یاد، خوشبو، یا خاموشی میں بھی زندہ رہتی ہے۔ وقت چاہے بدل جائے، محبت اپنی صورت بدل کر ہمیشہ وہیں رہتی ہے — جہاں کوئی کسی کا انتظار کرتا ہے۔ 🍂


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →