آخری سوال
رات کے دس بجے تھے۔ ٹی وی اسٹوڈیو کی روشنی مدھم ہو چکی تھی۔ صرف ایک میز، دو کرسیاں، اور درمیان میں مائیک۔ میز کے اس پار مشہور اینکر **زریاب خان** بیٹھا تھا، اور سامنے ایک پراسرار شخص — **محمود صابر۔**
زریاب نے مسکراتے ہوئے کہا، “تو جناب، آپ وہی ہیں جنہوں نے پچیس سال تنہائی میں گزارے؟” محمود نے سر ہلایا، “ہاں، مگر وہ تنہائی نہیں تھی — خاموشی تھی۔”
“اور آپ آج پہلی بار میڈیا کے سامنے آئے ہیں۔ کیا وجہ بنی؟” محمود بولا، “شاید میں چاہتا تھا کہ جانے سے پہلے، ایک سوال چھوڑ جاؤں۔”
زریاب نے قلم اٹھایا، “آپ سے لوگ کہتے ہیں کہ آپ فلسفی ہیں۔ تو آئیے، ہم آپ سے زندگی پر بات کرتے ہیں۔ زندگی کیا ہے؟”
محمود نے آنکھیں بند کیں، “زندگی ایک سوال ہے جسے ہم جواب سمجھ کر جیتے ہیں۔ جب تک ہم ڈھونڈتے ہیں، ہم زندہ ہیں۔ جس دن سمجھ جاتے ہیں — وہ آخری دن ہوتا ہے۔”
زریاب نے اگلا سوال کیا، “اور موت؟” “موت وقت کی طرح ہے، بس انسان ہی اسے گھڑی سے ناپتا ہے۔ اصل میں موت وہ لمحہ ہے جب تم اپنے ہونے کو تسلیم کر لو۔”
اس کے لہجے میں ایسی نرمی تھی کہ پورا اسٹوڈیو خاموش ہو گیا۔ زریاب نے دھیرے سے پوچھا، “تو کیا آپ کو لگتا ہے آپ کا وقت آ چکا ہے؟” محمود نے مسکرا کر کہا، “ہاں، اس لیے تو یہ انٹرویو آخری ہے۔”
زریاب چونک گیا۔ “کیا مطلب؟” محمود نے مائیک کے قریب جھک کر کہا، “میں وہ ہوں جو کل نہیں ہوگا — لیکن آج تمہیں بتانے آیا ہوں کہ 'ہونا' کتنا قیمتی ہے۔”
اگلے لمحے مائیک سے صرف خاموشی کی آواز آئی۔ زریاب نے دیکھا — کرسیاں خالی تھیں۔ محمود جا چکا تھا۔
ریکارڈنگ کے آخر میں صرف ایک فقرہ سنا گیا: “زندگی آخری سوال کا جواب ہے — اور وہ جواب، خود تم ہو۔”
مفہوم / عکاسی:
“آخری سوال” انسان کے وجود اور وقت کے احساس پر مبنی علامتی کہانی ہے۔ یہ دکھاتی ہے کہ زندگی اصل میں سوالات کی زنجیر ہے — اور موت، اس کا آخری نشان۔ کبھی کبھی ایک گفتگو پوری زندگی بدل دیتی ہے، اور ایک انٹرویو، روح کا اعتراف بن جاتا ہے۔ 🎙️
— اختتام —