← تمام اردو کہانیاں

پردہ گر گیا

ایک خالی اسٹیج، گرنے والا پردہ،
اور روشنی کے بیچ کھڑا وہ اداکار جو اپنے مکالمے بھول چکا ہے۔

تھیٹر ہال میں شور تھا۔ لوگ تالیاں بجا رہے تھے۔ ڈرامے کا آخری منظر شروع ہونے والا تھا — جہاں ہیرو کو مرنا تھا۔ پردے کے پیچھے **ارسلان** کھڑا تھا، چہرے پر میک اپ، مگر آنکھوں میں تھکن۔

ڈائریکٹر کی آواز گونجی، “تیار ہو جاؤ، یہی سین تمہاری زندگی بدل دے گا!” ارسلان نے آہستہ کہا، “زندگی... یا انجام؟”

اسٹیج پر روشنی پڑی، اس نے قدم بڑھایا، تلوار اٹھائی، اور ڈائیلاگ بولا — “محبت نے مارا، مگر نفرت نے دفن کیا!” تالیاں بجنے لگیں۔ مگر اگلے لمحے، وہ زمین پر واقعی گر گیا۔

سب نے سمجھا یہ اداکاری ہے۔ ڈائریکٹر نے فخر سے کہا، “کیا پرفارمنس تھی! کتنی حقیقت سے کھیلا!” مگر پردہ گرنے کے بعد جب وہ اٹھا نہیں — خاموشی پھیل گئی۔

دو منٹ بعد لائٹس بند کر دی گئیں۔ کمرے میں صرف ایک اسپات لائٹ جل رہی تھی، جو ارسلان کے چہرے پر پڑی ہوئی تھی۔ چہرے پر مسکراہٹ تھی، جیسے وہ کہہ رہا ہو، “میں نے آخرکار سچ بول دیا — زندگی واقعی ایک ڈرامہ ہے، بس فرق یہ ہے کہ کچھ لوگ پردہ گرنے سے پہلے چلے جاتے ہیں۔”

اگلے دن اخبارات کے صفحے پر خبر تھی: “اداکار ارسلان، اپنے آخری منظر میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔”

تھیٹر میں اب بھی وہی سین چلتا ہے۔ نئے اداکار آتے ہیں، مگر جب آخری پردہ گرتا ہے — سب کہتے ہیں، “یہ منظر آج بھی سچا لگتا ہے۔”

مفہوم / عکاسی:
“پردہ گر گیا” زندگی اور فن کے درمیان لکیر کو چھوتی کہانی ہے۔ یہ دکھاتی ہے کہ کبھی کبھی کردار، حقیقت سے زیادہ سچے ہوتے ہیں۔ ہر انسان کسی نہ کسی اسٹیج پر ہے — جہاں پردہ ضرور گرتا ہے، مگر کہانی ختم نہیں ہوتی۔ 🎭


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →