← تمام اردو کہانیاں

بند دروازہ

ایک پرانا مکان، لکڑی کا دروازہ جو کبھی کھلتا نہیں،
اور اس کے پیچھے سے آتی مدھم سرگوشی۔

گاؤں کے کنارے پر ایک پرانا مکان تھا۔ دیواروں پر کائی، چھتوں پر دھول، اور بیچ میں ایک دروازہ — جو پچیس سال سے بند تھا۔

لوگ کہتے تھے کہ اس دروازے کے پیچھے **زہرہ بیگم** کی روح رہتی ہے۔ وہ جو برسوں پہلے ایک رات اچانک غائب ہو گئی تھی۔ کسی نے کچھ سنا نہیں، مگر سب نے محسوس کیا — کہ وہ اب بھی وہاں ہے۔

ایک دن شہر سے **مراد** نامی نوجوان آیا۔ اس نے سنا تھا کہ زہرہ بیگم اس کی دادی تھیں، اور وہ دروازہ اُن کے ماضی کا راز چھپائے ہوئے ہے۔ وہ گھر میں داخل ہوا۔ فرش چرچرا رہا تھا، اور ہوا میں ایک بوسیدہ خوشبو گھل رہی تھی۔

دروازے کے قریب پہنچ کر وہ رُکا۔ اس پر انگلیوں کے پرانے نشان تھے، جیسے کسی نے آخری بار بہت زور سے دروازہ بند کیا ہو۔ مراد نے آہستہ دستک دی۔ کوئی جواب نہیں۔ پھر دوسری بار — اور اس بار اندر سے ہلکی سی آہٹ آئی۔

“کون ہے؟” آواز مدھم تھی، مگر صاف۔ مراد کا دل دھڑکنے لگا۔ “میں... مراد ہوں، زہرہ بیگم کا پوتا۔” خاموشی چھا گئی۔ پھر دروازے کے اندر سے ایک ہلکی ہنسی سنائی دی — “آخر تم آ ہی گئے...”

دروازہ خود بخود کھلنے لگا۔ مراد نے اندر جھانکا — کمرہ خالی تھا۔ صرف ایک پرانا آئینہ اور میز پر رکھی ڈائری۔ اس نے ڈائری کھولی۔ پہلا صفحہ لکھا تھا: “جو دروازے باہر سے بند ہوتے ہیں، وہ اکثر اندر کے خوف سے بند کیے جاتے ہیں۔”

مراد کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ آئینے میں اس نے دیکھا — اس کے پیچھے ایک دھندلا سا سایہ کھڑا مسکرا رہا تھا۔ پھر سب کچھ خاموش ہو گیا۔

اگلے دن لوگ آئے تو دروازہ کھلا ہوا تھا، مگر اندر کچھ نہیں تھا۔ صرف دیوار پر تازہ لکھا ایک جملہ — “راز تب ختم نہیں ہوتا جب دروازہ کھلے، بلکہ جب انسان خود کو پہچان لے۔”

مفہوم / عکاسی:
“بند دروازہ” انسان کے ماضی اور اس کے اندر چھپے خوف کی علامتی کہانی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ بعض راز ہمارے اردگرد نہیں، ہماری اپنی روح کے اندر ہوتے ہیں۔ کبھی کبھار دروازہ کھولنے کی ہمت دروازے کو نہیں — خود کو کھولنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ 🕯️


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →