وقت کا قرض
سلمان ہمیشہ کہتا تھا،
“ابھی بہت وقت ہے۔”
کام ہو یا رشتہ، عبادت ہو یا خواب—
ہر چیز کے لیے اس کے پاس ایک ہی جواب ہوتا:
“کل کر لیں گے۔”
سلمان ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ پڑھائی میں اچھا تھا، مگر سنجیدہ نہیں۔ والد بار بار سمجھاتے،
“بیٹا، وقت ہاتھ سے نکل جائے تو واپس نہیں آتا۔”
سلمان مسکرا کر جواب دیتا،
“ابو، فکر نہ کریں، سب ہو جائے گا۔”
وقت گزرتا گیا۔
کالج ختم ہوا، نوکری ملی، پھر بدل گئی۔
ماں بیمار ہونے لگی، مگر سلمان مصروف رہا۔
دوستوں کی کالز آئیں، مگر وہ “بعد میں” پر ٹالتا رہا۔
ایک دن سلمان کو فون آیا۔
اس کی ماں اسپتال میں تھیں، حالت نازک تھی۔
وہ دوڑتا ہوا پہنچا، مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔
ماں کی آنکھیں بند تھیں، مگر چہرے پر عجیب سا سکون تھا۔
سلمان کرسی پر بیٹھ گیا۔
دل میں ایک ہی آواز گونج رہی تھی:
“ابھی بہت وقت ہے۔”
مگر اب وقت نہیں تھا۔
کچھ دن بعد سلمان اپنی پرانی ڈائری کھول کر بیٹھا۔
ہر صفحے پر ایک ہی لفظ لکھا تھا:
“کل”
وہ سمجھ گیا کہ اس نے زندگی کو جینے کے بجائے مؤخر کیا تھا۔
اسی رات اسے عجیب سا خواب آیا۔
ایک بوڑھا شخص اس کے سامنے کھڑا تھا، ہاتھ میں ریت کی گھڑی۔
بوڑھے نے کہا،
“میں وقت ہوں۔ تم نے مجھ سے بہت قرض لیا ہے۔”
سلمان گھبرا گیا،
“میں سب ٹھیک کر لوں گا، بس ایک موقع دے دیں۔”
بوڑھے نے ریت کی گھڑی الٹ دی اور کہا،
“ہر سانس تمہارا موقع ہے، مگر ہر موقع واپس نہیں آتا۔”
سلمان کی آنکھ کھل گئی۔
وہ پسینے میں بھیگا ہوا تھا، مگر دل میں عجیب سا عزم تھا۔
اگلے دن سے اس نے اپنی زندگی بدل دی۔
نماز وقت پر، کام دل سے، لوگوں سے خلوص کے ساتھ۔
وہ رشتے جو ٹوٹنے والے تھے، جڑنے لگے۔
وہ خواب جو دب گئے تھے، جاگنے لگے۔
سلمان نے سیکھ لیا تھا کہ
وقت کو مؤخر کرنا، دراصل زندگی کو مؤخر کرنا ہے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ:
- وقت سب سے قیمتی سرمایہ ہے
- “کل” اکثر کبھی نہیں آتا
- اپنوں کے لیے وقت نکالنا محبت کی سب سے بڑی شکل ہے
- زندگی موقع دیتی ہے، ضمانت نہیں
کیونکہ وقت کبھی معاف نہیں کرتا۔
— اختتام —