← تمام اردو کہانیاں

ادھورا خط

A handwritten letter on a wooden table near a window, soft morning light, emotional and nostalgic mood

زینب نے وہ خط کئی بار لکھنا شروع کیا،
اور ہر بار آدھے صفحے پر آ کر روک دیا۔

میز کی دراز میں پڑے کاغذات اس کے دل کی گواہی تھے—
کٹے پھٹے جملے، ادھورے لفظ، اور آنسوؤں کے ہلکے نشان۔

وہ خط اپنے والد کے نام تھا۔

والد جن سے وہ برسوں سے بات نہیں کر سکی تھی۔

زینب کے والد سخت مزاج تھے۔
وہ کم بولتے، مگر ان کی خاموشی میں بھی حکم ہوتا تھا۔
زینب آزاد مزاج تھی، سوال کرنے والی، خواب دیکھنے والی۔

ایک دن ایک چھوٹی سی بات نے بڑا رخ اختیار کر لیا۔
تلخ لفظ کہے گئے، دروازہ زور سے بند ہوا،
اور زینب اس گھر سے نکل گئی—یہ سوچ کر کہ شاید کبھی واپس نہ آئے۔

سال گزرتے گئے۔
زینب نے اپنی دنیا بنا لی۔
نوکری، شہر، مصروفیت—سب کچھ تھا،
مگر دل کے کسی کونے میں ایک خالی جگہ ہمیشہ رہی۔

ہر عید، ہر خوشی پر وہ سوچتی:
“کاش ابو سے بات کر لیتی۔”

مگر انا، خوف، اور وہی پرانا جملہ آڑے آ جاتا:
“اب کیا فائدہ؟”

ایک دن اسے فون آیا۔
پڑوسی نے بتایا کہ والد کی طبیعت خراب ہے۔

زینب کا دل بیٹھ سا گیا۔
وہ اسی رات سفر پر نکل پڑی۔

گھر وہی تھا، مگر خاموش۔
والد بستر پر لیٹے تھے، کمزور، مگر آنکھوں میں وہی پہچانی ہوئی سختی… اور شاید نرمی بھی۔

زینب نے کچھ کہنا چاہا،
مگر لفظ ساتھ نہ دے سکے۔

اس نے اپنی جیب سے وہ ادھورا خط نکالا—
جو وہ کبھی بھیج نہ سکی تھی۔

خط والد کے ہاتھ میں رکھا،
اور بس اتنا کہا:
“ابو، یہ میں ہوں۔”

والد نے کانپتے ہاتھوں سے کاغذ کو چھوا،
لفظ پڑھے بھی، نہیں بھی—
مگر آنکھوں سے بہتے آنسو سب کچھ کہہ گئے۔

آہستہ سے بولے:
“کچھ خط پڑھے نہیں جاتے، بیٹی… محسوس کیے جاتے ہیں۔”

وہ لمحہ مختصر تھا،
مگر برسوں کی دوری اس میں سمٹ آئی۔

چند دن بعد والد دنیا سے رخصت ہو گئے۔
مگر زینب کے دل پر بوجھ نہیں تھا۔

وہ جان چکی تھی کہ
ہر خط مکمل ہونا ضروری نہیں—
کبھی کبھی نیت ہی کافی ہوتی ہے۔



معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

اگر دل میں کوئی ادھورا خط ہے—
تو اسے آج ہی مکمل کریں،
کیونکہ ہر رشتہ “کل” کا انتظار نہیں کرتا۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →