چراغ جو بجھنے نہ پایا
اماں بی کے گھر میں صرف ایک ہی چراغ تھا۔
مٹی کا بنا ہوا، پرانا، مگر برسوں سے جلتا آ رہا تھا۔
گاؤں کے لوگ کہتے تھے،
“یہ چراغ نہ ہو تو اس گھر میں اندھیرا پھیل جائے۔”
اماں بی اکیلی تھیں۔
شوہر برسوں پہلے دنیا سے جا چکے تھے،
بیٹا شہر روزگار کی تلاش میں گیا اور پھر لوٹ کر نہ آیا۔
چھوٹا سا کچا گھر،
اور اس میں ایک عورت… اور ایک چراغ۔
ہر شام اماں بی مغرب کے بعد چراغ جلاتیں،
اس کے سامنے بیٹھ کر دعائیں کرتیں،
اور آہستہ سے کہتیں:
“یا اللہ، امید کو بجھنے نہ دینا۔”
وقت سخت تھا۔
بارش میں چھت ٹپکتی،
سردیوں میں ہاتھ کانپتے،
اور کبھی کبھی تو کھانے کو بھی کچھ نہ ہوتا۔
پڑوسی مشورہ دیتے،
“اماں، شہر چلی جاؤ، یہاں کیا رکھا ہے؟”
وہ مسکرا کر کہتیں،
“جہاں امید جلتی ہو، وہی میرا شہر ہے۔”
ایک رات شدید آندھی آئی۔
ہوا دروازوں سے ٹکرا رہی تھی،
بارش زمین کو پیٹ رہی تھی۔
چراغ لرزنے لگا۔
شعلہ کبھی جھکتا، کبھی سیدھا ہوتا۔
اماں بی نے فوراً دونوں ہاتھوں سے اسے گھیر لیا۔
ہوا کی تیزی سے ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے،
مگر ہاتھ نہیں ہٹے۔
وہ بڑبڑائیں:
“اگر یہ بجھ گیا، تو حوصلہ بھی بجھ جائے گا۔”
اچانک دروازہ کھٹکا۔
اماں بی چونک گئیں۔
دروازہ کھولا تو سامنے ایک نوجوان کھڑا تھا—
گیلے کپڑے، تھکا ہوا چہرہ،
اور آنکھوں میں پہچان۔
“اماں…”
بس اتنا ہی کہا، اور زمین پر بیٹھ گیا۔
یہ ان کا بیٹا تھا۔
ناکامیاں، دھوکے، اور شہر کی سختیاں اسے واپس لے آئی تھیں۔
چراغ کی روشنی میں اماں بی نے اسے دیکھا،
اور برسوں کی دعائیں آنسو بن کر بہہ نکلیں۔
اس رات چراغ پہلے سے زیادہ روشن تھا۔
اگلی صبح گاؤں نے دیکھا،
کہ اس گھر سے دھواں اٹھ رہا ہے،
ہنسی کی آوازیں آ رہی ہیں۔
چراغ وہی تھا،
مگر اب اس کی روشنی ایک نہیں، دو زندگیاں روشن کر رہی تھی۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- امید سب سے نازک، مگر سب سے مضبوط چیز ہے
- جو انتظار صبر سے کیا جائے، وہ خالی نہیں جاتا
- مشکلات عارضی ہوتی ہیں، حوصلہ مستقل
- ایک چھوٹا سا یقین، بڑی واپسی کا سبب بن سکتا ہے
تو چراغ بجھانے کے بجائے
اسے دونوں ہاتھوں سے بچا کر رکھیں—
کیونکہ روشنی اکثر واپس لوٹ آتی ہے۔
— اختتام —