صبر کا دروازہ
یاسر کو ہمیشہ لگتا تھا کہ اس کی زندگی ایک بند کمرہ ہے۔
کھڑکیاں بھی ہیں، مگر کھلتی نہیں۔
دروازے بھی ہیں، مگر سب مقفل۔
وہ ہر دن پوری محنت سے کام کرتا،
مگر نتیجہ صفر۔
نوکریاں بدلیں،
لوگوں پر بھروسا کیا،
اور کئی بار خود پر بھی شک کیا۔
لوگ کہتے تھے،
“قسمت ساتھ نہیں دے رہی۔”
اور یاسر سوچتا،
“شاید مجھ میں ہی کمی ہے۔”
ایک دن وہ ایک پرانی ورکشاپ میں کام کرنے لگا۔
مالک ایک بوڑھا شخص تھا—کم گو، سنجیدہ، اور بہت صابر۔
یاسر نے پہلے ہی دن پوچھ لیا:
“چچا، یہاں ترقی کا کوئی موقع ہے؟”
بوڑھے نے مسکرا کر کہا:
“پہلے ٹھہرنا سیکھو، پھر آگے بڑھنا۔”
یہ جواب یاسر کو عجیب لگا۔
وہ تو جلدی میں تھا—جلدی کامیابی، جلدی پہچان۔
دن گزرتے گئے۔
یاسر وقت پر آتا،
خاموشی سے کام کرتا،
اور ہر کام میں دل لگاتا۔
بوڑھا مالک سب دیکھتا تھا،
مگر کچھ کہتا نہیں تھا۔
ایک دن یاسر نے دیکھا کہ ورکشاپ کا پچھلا دروازہ ہمیشہ بند رہتا ہے۔
اس نے پوچھا:
“یہ دروازہ کیوں نہیں کھلتا؟”
بوڑھے نے کہا:
“یہ خاص وقت کے لیے ہے۔”
یاسر ہنسا،
“دروازے بھی وقت دیکھ کر کھلتے ہیں؟”
بوڑھا آہستہ بولا:
“نہیں بیٹا، لوگ کھلنے کے قابل ہوتے ہیں۔”
مہینے سال میں بدل گئے۔
یاسر نے کبھی شکایت نہیں کی،
کبھی جلدی نہیں دکھائی۔
ایک دن اچانک بوڑھا بیمار پڑ گیا۔
اس نے یاسر کو بلایا اور چابی اس کے ہاتھ میں تھما دی۔
“اب وقت ہے۔”
یاسر نے پچھلا دروازہ کھولا۔
اندر ایک مکمل نئی ورکشاپ تھی—
نئے آرڈر، نئے اوزار، اور ایک نیا موقع۔
بوڑھے نے کہا:
“یہ سب تمہارا ہے۔
تم نے صبر کا دروازہ کھول لیا ہے۔”
یاسر کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
اس نے سمجھ لیا تھا کہ
کچھ کامیابیاں شور سے نہیں، ٹھہراؤ سے ملتی ہیں۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- ہر بند دروازہ ناکامی نہیں ہوتا
- صبر وقت ضائع کرنا نہیں، خود کو تیار کرنا ہے
- جلدی اکثر راستہ بند کر دیتی ہے
- جو انتظار سیکھ لیتا ہے، وہی آگے بڑھتا ہے
تو مایوس نہ ہوں—
شاید آپ کے اندر ابھی
صبر کا تالہ کھلنا باقی ہے۔
— اختتام —