← تمام اردو کہانیاں

آخری سیڑھی

A long staircase disappearing into light at the top, symbolic of struggle and success

حمزہ کو ہمیشہ لگتا تھا کہ وہ زندگی میں ایک سیڑھی پیچھے کھڑا ہے۔
جہاں دوسرے لوگ آگے بڑھ رہے تھے،
وہیں وہ بار بار پھسل جاتا تھا۔

کبھی امتحان میں ناکامی،
کبھی نوکری کا انٹرویو،
اور کبھی اپنوں کی توقعات کا بوجھ۔

لوگ تسلی دیتے:
“تم قابل ہو، بس قسمت ساتھ نہیں دے رہی۔”

مگر حمزہ جانتا تھا کہ
قابلیت صرف پہلا زینہ ہے۔

وہ ایک چھوٹے سے کمرے میں رہتا تھا،
جہاں دیوار پر ایک پرانا پوسٹر لگا تھا—
ایک لمبی سیڑھی، جس کے اوپر روشنی بنی ہوئی تھی۔

ہر رات وہ اس پوسٹر کو دیکھ کر خود سے کہتا:
“ایک سیڑھی اور۔ بس ایک سیڑھی اور۔”

ناکامیوں نے اسے تھکایا ضرور،
مگر روکا نہیں۔

ایک دن اسے ایک مشکل ترین امتحان میں آخری بار موقع ملا۔
دوستوں نے کہا:
“اب چھوڑ دو، یہ تمہارے بس کا نہیں۔”

حمزہ نے خاموشی سے کتاب کھولی۔
وہ جانتا تھا کہ اگر یہ سیڑھی بھی چھوڑ دی،
تو نیچے جانے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔

مہینوں کی محنت،
تنہائی،
اور خود سے لڑائی کے بعد
وہ دن آ گیا۔

نتائج آئے۔

حمزہ کا نام فہرست میں سب سے اوپر نہیں تھا،
مگر تھا—
اور یہی اس کے لیے کافی تھا۔

وہ اس دن دیر تک سیڑھیوں پر بیٹھا رہا۔
آخری سیڑھی پر کھڑے ہو کر
اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔

ناکامیاں،
مایوسیاں،
اور وہ تمام لمحے
جب اس نے ہار ماننے کا سوچا تھا۔

وہ مسکرایا۔
روشنی سامنے تھی—
اور وہ وہاں پہنچ چکا تھا۔



معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:

اگر آپ تھکے ہوئے ہیں،
تو بیٹھ جائیں—
مگر واپس مت جائیں۔
شاید اگلی ہی سیڑھی
آپ کی آخری ہو۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →