واپس لوٹتی ہوئی مسکراہٹ
عائشہ کو یاد بھی نہیں تھا کہ وہ آخری بار کب دل سے مسکرائی تھی۔
چہرے پر مسکراہٹ تو ہوتی تھی، مگر وہ صرف لوگوں کے لیے تھی— خود کے لیے نہیں۔
شادی، ذمہ داریاں، گھر، بچے، اور روزمرہ کی تھکن— سب کچھ اس کی زندگی میں تھا، مگر کہیں نہ کہیں وہ خود کھو گئی تھی۔
وہ صبح سب سے پہلے اٹھتی، سب کے لیے ناشتہ بناتی، بچوں کو تیار کرتی، اور رات سب کے سونے کے بعد خاموشی سے برتن سمیٹتی۔
آئینے میں خود کو دیکھتی تو ایک اجنبی چہرہ نظر آتا— آنکھوں میں تھکن، اور ہونٹوں پر زبردستی کی مسکراہٹ۔
ایک دن اس کی بیٹی نے پوچھا: “امی، آپ ہنستی کیوں نہیں؟”
یہ سوال تیر کی طرح لگا۔ عائشہ کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
اسی رات وہ چھت پر جا کر بیٹھ گئی۔ آسمان پر بادل تھے، ہوا میں ہلکی سی خنکی۔
اس نے خود سے آہستہ کہا: “میں کب بدلی؟ یا شاید کب رک گئی؟”
اگلے دن اس نے ایک چھوٹا سا فیصلہ کیا۔ بہت بڑا نہیں— بس اپنا پسندیدہ گانا چلایا اور چائے کا کپ ہاتھ میں لے کر کھڑکی کے پاس کھڑی ہو گئی۔
دل عجیب سا ہلکا لگا۔
پھر اس نے روز اپنے لیے چند منٹ نکالنے شروع کیے۔ کبھی لکھنا، کبھی پودوں کو پانی دینا، اور کبھی خاموشی میں سانس لینا۔
دن ہفتوں میں بدلے، اور ہفتے مہینوں میں۔
ایک دن وہی بیٹی اس کے پاس آئی اور بولی: “امی، آج آپ بہت اچھی لگ رہی ہیں۔”
عائشہ نے آئینے میں دیکھا۔ چہرہ وہی تھا— مگر آنکھوں میں روشنی تھی۔
وہ مسکرائی۔ اس بار دل سے۔
زندگی وہی تھی، ذمہ داریاں بھی وہی— مگر عائشہ واپس آ چکی تھی۔
اور اس کے ساتھ اس کی مسکراہٹ بھی۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- خود کو بھول جانا قربانی نہیں، نقصان ہے
- خوشی کے لیے بڑے فیصلے نہیں، چھوٹے قدم کافی ہوتے ہیں
- جو اپنے لیے وقت نکالتا ہے، وہ دوسروں کے لیے بھی بہتر ہوتا ہے
- مسکراہٹ کھوئی نہیں جاتی، بس چھپ جاتی ہے
— اختتام —