← تمام اردو کہانیاں

خاموش دعا

A person sitting alone in a quiet mosque after prayer, soft light, peaceful and spiritual mood

فراز بولنا کم اور سوچنا زیادہ جانتا تھا۔
لوگ اسے خاموش مزاج کہتے تھے،
مگر کوئی نہیں جانتا تھا کہ
اس کی خاموشی میں کتنی دعائیں چھپی ہیں۔

فراز کی زندگی سادہ تھی،
مگر آسان نہیں۔

والد کا سایہ بچپن میں ہی اٹھ گیا تھا۔
ماں سلائی کر کے گھر چلاتی تھیں،
اور فراز پڑھائی کے ساتھ ساتھ
چھوٹے موٹے کام کر لیتا تھا۔

وہ اکثر رات کو محلے کی مسجد میں
عشاء کے بعد بیٹھ جاتا۔
نماز ختم ہو جاتی،
لوگ چلے جاتے،
اور وہ وہیں رہ جاتا۔

نہ ہاتھ اٹھاتا،
نہ لب ہلاتا۔

بس آنکھیں بند کر لیتا
اور دل میں ایک ہی بات دہراتا:
“یا اللہ، ہمت دینا۔”

امتحانات آئے،
وسائل کم تھے،
کتابیں پرانی تھیں۔

دوست کہتے:
“صرف محنت سے کچھ نہیں ہوتا، قسمت بھی چاہیے۔”

فراز مسکرا دیتا،
مگر دل میں جانتا تھا
کہ وہ اپنی قسمت کے لیے
روز خاموشی سے کھڑا ہے۔

ایک دن ماں بیمار پڑ گئیں۔
دوائیں مہنگی تھیں،
اور جیب خالی۔

اس رات فراز مسجد میں دیر تک بیٹھا رہا۔
اس کی آنکھوں سے آنسو بہے،
مگر آواز نہیں نکلی۔

یہ اس کی خاموش دعا تھی۔

چند دن بعد
اسے ایک اسکالرشپ کا خط ملا—
جس کے لیے اس نے درخواست بھی نہیں دی تھی۔
اس کے استاد نے چپکے سے نام بھیج دیا تھا۔

پڑھائی آسان ہوئی،
زندگی میں ترتیب آنے لگی۔

سالوں بعد
فراز ایک کامیاب انسان بن چکا تھا۔
ماں اس پر فخر کرتی تھیں۔

ایک دن کسی نے پوچھا:
“تم نے اتنی مشکلوں میں ہمت کیسے نہیں ہاری؟”

فراز نے آہستہ سے کہا:
“میں بول نہیں سکا…
مگر مانگتا ضرور رہا۔”



معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

اگر آپ کے پاس لفظ نہیں،
تو فکر نہ کریں—
خاموشی بھی
اللہ تک راستہ جانتی ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →