← تمام اردو کہانیاں

ٹوٹا ہوا گھڑیال

A broken vintage wall clock hanging in an old room, soft shadows, reflective and nostalgic mood

اسلم کے کمرے کی دیوار پر ایک پرانا گھڑیال لٹکا تھا۔
سوئیوں نے برسوں پہلے حرکت چھوڑ دی تھی،
مگر اسلم نے کبھی اسے اتارا نہیں۔

لوگ پوچھتے،
“یہ خراب گھڑی کیوں لٹکائے رکھی ہے؟”

وہ بس کہہ دیتا،
“وقت دیکھنے کے لیے نہیں، یاد رکھنے کے لیے ہے۔”

اسلم کبھی ایک ہنستا کھیلتا نوجوان تھا۔
خواب بڑے تھے،
حوصلہ مضبوط تھا۔

مگر ایک غلط فیصلے نے سب کچھ بدل دیا۔
کاروبار میں نقصان،
دوستوں کی بے وفائی،
اور خود پر اعتماد کا ٹوٹ جانا۔

اسی دن اس نے گھڑیال دیوار پر ٹانگا تھا—
جب اس کی زندگی بھی رک گئی تھی۔

دن گزرتے گئے۔
وہی روٹین،
وہی تھکن،
اور وہی بے دلی۔

گھڑیال خاموش تھا،
مگر اسلم کے دل میں شور تھا۔

ایک شام اس کا بھانجا آیا۔
بچوں کی معصوم آنکھوں میں سوال ہوتا ہے۔

اس نے گھڑیال کی طرف اشارہ کر کے پوچھا:
“ماموں، یہ وقت کیوں نہیں بتاتا؟”

اسلم مسکرایا،
“کیونکہ یہ ٹوٹا ہوا ہے۔”

بچے نے فوراً کہا:
“تو ٹھیک کیوں نہیں کراتے؟”

یہ جملہ اسلم کے دل میں اتر گیا۔

اسی رات اس نے گھڑیال اتارا۔
گرد صاف کی،
پرزے دیکھے،
اور آہستہ آہستہ اسے درست کرنے لگا۔

جب گھڑیال کی سوئی نے پہلی بار حرکت کی،
اسلم کی آنکھوں میں نمی آ گئی۔

اگلے دن اس نے بھی اپنی زندگی کے
ٹوٹے حصے جوڑنے شروع کیے۔
چھوٹے قدم،
نئے فیصلے،
اور پرانی غلطیوں سے سیکھنا۔

مہینوں بعد
گھڑیال پوری طرح چلنے لگا تھا۔
اور اسلم بھی۔

اب وہ وقت دیکھتا تھا—
نہ پچھتاوے کے لیے،
نہ افسوس کے لیے،
بلکہ آگے بڑھنے کے لیے۔



معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

اگر زندگی کا کوئی گھڑیال رک گیا ہے،
تو اسے اتاریں،
صاف کریں،
اور دوبارہ چلائیں—
کیونکہ وقت اب بھی
آپ کا انتظار کر رہا ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →